خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 731 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 731

خطابات شوری جلد دوم ۷۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اپنے روحانی علوم سے ہمیشہ میری مدد فرمائی اور اب میں ایک وسیع تجربہ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ دنیا کے کسی فن کا ماہر آ جائے اور وہ اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرے، میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اُسے ہر رنگ میں ساکت اور خاموش کرا سکتا ہوں۔ہو سکتا ہے کہ کوئی کج بحث ہو اور وہ باتیں کرتا چلا جائے ایسی صورت میں گو بظاہر اُس کی کج بحثی کو دیکھتے ہوئے میں ہی خاموش ہو جاؤں مگر دلائل کے میدان میں وہ میرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور جو لوگ اس گفتگو کو سُننے والے ہوں وہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اس کا ہر اعتراض باطل ہے اور اسلام کی تعلیم پر واقعہ میں کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔یہ میرا تجربہ ہے اور اس تجربہ کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اس امر میں تر ڈو نہیں ہونا چاہئے کہ ہم دُنیا کو سکھا سکتے اور اسے اپنی شاگردی میں رکھ کر پڑھا سکتے ہیں۔دُنیا کا بڑے سے بڑا فلا سفر آ جائے، دُنیا کا بڑے سے بڑا علم النفس کا ماہر آ جائے ، دُنیا کا بڑے سے بڑا حساب دان آجائے ، دُنیا کا بڑے سے بڑا سائنس دان آجائے، اور وہ اسلامی تعلیم پر اعتراض کرے تو جہاں تک مذہب کا تعلق ہے ہم اسلامی تعلیم کی برتری کو ایسے رنگ میں ثابت کر سکتے ہیں کہ اُسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ فی الواقع اسلام کی تعلیم دنیا کے تمام مذاہب کی تعلیمات سے زیادہ اعلیٰ ہے۔اور اگر وہ خود تعصب کی وجہ سے تسلیم نہ کرے تو اُس مجلس کے حاضرین تسلیم کریں گے کہ بات انہی کی سچی ہے۔اب دیکھ لو میری دُنیوی تعلیم کوئی نہیں۔پھر جب میں دنیا کے کسی بڑے سے بڑے عالم سے نہیں ڈرتا تو جو لوگ تعلیم میں مجھ سے بہت زیادہ ہیں کوئی وجہ نہیں کہ وہ خوف کھائیں اور سمجھیں کہ وہ دنیا کو تعلیم نہیں دے سکیں گے۔اگر خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے نئے نئے علوم سکھائے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اُن کو نہ سکھائے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ لوگ اپنے اندر انقلاب پیدا کریں اور اپنی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق بنا دیں۔خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ جماعت کے سامنے علوم کا ایک دریا بہا دیا مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے اُن علوم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی۔اگر وہ کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ کے اُن عطا کردہ علوم سے فائدہ اُٹھاتے تو آج وہ نئے انقلاب کے بعد دنیا کی باگ ڈورسنبھالنے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاتے۔ا