خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 701
2 +1 مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم ہمارے ملازموں میں بڑی بددیانتی پائی جاتی ہے۔آپ کی جماعت بھی چندے وصول کرتی ہے آپ نے اس بد دیانتی کو دور کرنے کا کیا علاج کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا ہمارے ہاں کوئی بددیانتی نہیں کرتا کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ بد دیانتی انسان کے ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔بے شک ہم کسی طاقت یا حکومت کا دباؤ اُن پر نہیں ڈال سکتے مگر ایمان کا دباؤ ایسی چیز ہے کہ جو کام حکومت کے دباؤ سے نہیں ہو سکتا وہ ایمان کے دباؤ سے ہو جاتا ہے اور اصل چیز ایمان ہی ہے۔یہ اگر دل میں پیدا ہو جائے تو انسان نہ بد دیانتی کرتا ہے، نہ چوری کرتا ہے، نہ ڈاکہ ڈالتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ چیزیں اس کے ایمان کو ضائع کرنے والی ہیں۔وہ انگریز افسر اُس وقت چھٹی پر انگلستان جارہا تھا۔میری ان باتوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ کہنے لگا اگر میں واپس آیا تو میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ کو آپریٹو سوسائٹیز کے انسپکٹر پہلے چھ ماہ کے لئے امام جماعت احمدیہ کے پاس بھیج دیئے جایا کریں تا کہ وہ ان میں دیانت کی روح پیدا کریں۔میں نے کہا آپ کو گورنمنٹ اس کی اجازت نہیں دے گی۔کہنے لگا میں تو ضرور درخواست کروں گا۔غرض وہ بہت ہی متاثر ہوا کہ جماعت احمدیہ میں کس قدر دیانت پائی جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ انسان سے بُھول چوک ہو جاتی ہے مگر بھول چوک اور چیز ہے اور بددیانتی اور چیز۔بد دیانتی کی مثال ہماری جماعت میں شاذ و نادر کے طور پر ہی نظر آ سکتی ہے۔ورنہ ہماری جماعت کے دوست ہزاروں روپیہ ماہوار وصول کرتے ہیں اور بغیر ایک پیسہ کی بددیانتی کے سب کا سب مرکز میں بھجوا دیتے ہیں اور اُن کے حساب ایسے صاف ہوتے ہیں کہ اُن پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔غرض خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہماری جماعت میں اس قدر دیانت پیدا کی ہے کہ بجائے اس کے کہ اعتراض کیا جائے اور دوستوں کا شکوہ کیا جائے ہمارا تو یہ کام ہے کہ ہم مسجدوں میں گر گر کر خدا تعالیٰ کا شکر بجالائیں کہ اُس نے جماعت کو ایسا اچھا نمونہ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔بے شک جہاں تک انفرادی معاملات کا تعلق ہے میں پوری طرح خوش نہیں۔بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں اور پھر واپس نہیں کرتے بعض اور کمزوریاں دکھاتے ہیں مگر ہمارا جماعتی معیار انفرادی معیار سے بہت بلند ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ اگر وصولی پر زور دیا جائے اور