خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 699
خطابات شوری جلد دوم ۶۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نقصان پہنچانے والی ہیں۔ہمارا معاملہ ایک سخی داتا سے ہے اور وہ ہم سے صرف سودا ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے پاس سے زائد انعامات بھی اپنے فضل سے دیتا ہے اور جس نے قیمت بھی دی اور زائد انعام بھی دے دیا اُس کے متعلق کسی کو کیا خدشہ ہو سکتا ہے اور کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ چیز میری ہے۔بے شک ایک ملازم کی حیثیت سے ہمیں فکر کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ روپیہ صیح جگہ خرچ ہو مگر یہ نہ ہو کہ سیالکوٹ والے کہیں اُن کا چندہ قادیان پر کیوں خرچ ہو رہا ہے۔اس سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نہ لا ہور نے قادیان کو چندہ دیا ہے، نہ سیالکوٹ اور بنگال نے قادیان والوں کو چندہ دیا ہے بلکہ سب نے خدا کو چندہ دیا ہے۔ابھی گزشتہ دنوں بنگال کے دوستوں میں یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ ہمارا اتنا چندہ ہوتا ہے اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے لئے فلاں فلاں مطالبات مرکز سے کریں۔میں نے ان سے کہا نیک بختو! تم اتنا تو سوچو کہ اگر قادیان خرچ نہ کرتا تو تمہارے کانوں تک احمدیت کی آواز کس طرح پہنچتی۔اب تمہارا فرض ہے کہ بجائے اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کے تم کوشش کرو کہ تمہارے روپیہ سے غیر ممالک تک اسلام اور احمدیت کا نام پہنچ جائے۔پس یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا اتنا روپیہ ہے۔اس روپیہ کو کہاں خرچ کیا گیا۔ہمارا تعلق اپنے روپیہ سے اسی وقت ختم ہو جاتا ہے جب ہم اسے خدا کے لئے دے دیتے اور اس کی قیمت وصول کر لیتے ہیں۔چوہدری عبد اللہ خاں صاحب نے کہا ہے کہ چندہ جلسہ سالانہ کی وصولی پر زور دیا جائے۔میرے نزدیک یہ نہایت ضروری بات ہے اور نہ صرف نظارت بیت المال کو بلکہ سیکرٹریان مال کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔چندہ عام کے متعلق بھی پہلے شکایت رہتی تھی کہ جماعتیں با قاعدگی کے ساتھ ادا نہیں کرتیں مگر جب نمائندگان کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور وصولی پر زور دیا گیا تو اصلاح نمایاں ہو گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چندہ کی پوری وصولی نہ ہونے میں جنگ کا بھی دخل ہے کیونکہ اشیاء گراں ہو گئی ہیں لیکن میرے نزدیک اگر مجلس شوری کے موقع پر اس چندے کا ایک جماعت وار نقشہ تیار کر کے اُسے پڑھ دیا