خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 694 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 694

خطابات شوری جلد دوم ۶۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جب تک خدا چاہے گا ، جب تک ہم اپنے آپ کو اس کے فضلوں کے مستحق بناتے رہیں گے اس کے اندر کوئی تغیر پیدا نہیں ہو گا چاہے قحط پڑے، لڑائیاں ہوں، مالی مشکلات آئیں مومن کا ایمان کسی حالت اور کسی زمانہ میں بھی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کر سکتا۔کل ہی میں نے صرف قادیان والوں کی بھینسوں کی قیمت کا اندازہ لگایا تھا اور میں نے بتایا تھا کہ وہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ مالیت کی ہیں۔اسی پر قیاس کرتے ہوئے اگر ہم ان کی اور جائیدادوں کا اندازہ لگائیں تو میرا خیال یہ ہے کہ صرف قادیان کے احمدیوں کے پاس ایک یا دو کروڑ روپیہ کی جائیدادیں موجود ہیں۔اُن کی بھینسیں ہی لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ہیں۔اس سے ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ اگر کسی وقت یہ سوال پیدا ہو جائے کہ ہر شخص اپنے مال کی انتہائی حد تک قربانی کر دے تو صرف قادیان کی جماعت جو بیرونی جماعتوں کا بیسواں بلکہ پچیسواں حصہ ہے ایک یا دو کروڑ روپیہ کی جائیدادیں خدمتِ اسلام کے لئے پیش کر سکتی ہے اور بیرونی جماعتوں میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے اچھے امیر لوگ موجود ہیں۔ان سب کا اگر اس کے مطابق اندازہ لگایا جائے اور ان کے ایمان اور اخلاص کو مدنظر رکھا جائے تو اس وقت بھی جب کہ ہماری جماعت کنگال اور غریب ہے، اگر واقعہ میں ایسا زمانہ آ جائے کہ ہمیں اپنا سب کچھ قربان کر دینا پڑے تو اب بھی جماعت بسہولت پندرہ بیس کروڑ روپیہ کی جائیداد دے سکتی ہے۔سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کس قدر مانگنے کی آواز آتی ہے۔پھر جس قدر خدا لینا چاہتا ہے اور جس قدر ضرورت ہوتی ہے اُتنا روپیہ بہر حال جمع ہو جاتا ہے۔نہ قحط اس میں روک پیدا کر سکتے ہیں نہ لڑائیاں اس میں روک بن سکتی ہیں نہ مالی تنگیاں لوگوں کو قربانی سے روکتی ہیں۔میں نے جب تحریک جدید جاری کی تو میں نے جماعت کے دوستوں سے ۲۷ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا تھا اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میر انفس اُس وقت مجھے یہ کہتا تھا کہ ۲۷ ہزار روپیہ بہت زیادہ ہے، یہ جمع نہیں ہو گا مگر میرا دل کہتا تھا کہ اس قدر روپیہ کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔چنانچہ گو میں یہی سمجھتا تھا کہ اتنا روپیہ جمع نہیں ہوسکتا دینی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے میں نے تحریک کر دی اور ساتھ ہی دعائیں شروع کر دیں کہ خدایا ! ضرورت تو اتنی ہے مگر جن سے میں مانگ رہا ہوں اُن کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے میں اُمید نہیں