خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 693
خطابات شوری جلد دوم ۶۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء مطالبہ کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جلسہ سالانہ کا خرچ تمیں ہزار روپیہ ہے مگر آمد اندازہ ۲۷ ہزار روپیہ ہے۔اس زیادتی سے جماعتیں کوشش کریں گی کہ چندہ جلسہ سالانہ کی آمد اور اس کا خرچ برابر ہو جائے۔(اب جلسہ کا خرچ پچاس ہزار سے اوپر چلا گیا ہے ) خدا اپنے سلسلہ کی مدد کرتا ہے بعض دوستوں نے کہا ہے کہ ملازم پیشہ لوگوں پر چونکہ بوجھ زیادہ ہے اس لئے ان سے کم چندہ لینا چاہئے ، زمینداروں اور تاجروں سے زیادہ لینا چاہئے۔اس کے جواب میں بعض ملازموں نے کھڑے ہو کر کہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر حالت میں زیادہ قربانی کر سکتے ہیں اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ اُن سے کم چندہ لیا جائے۔میرے نزدیک جس دوست نے یہ بات کہی ہے انہوں نے واقعات سے غلط نتیجہ نکالا ہے اور اس قسم کے الفاظ ایمان اور اخلاص کو کم کرنے والے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں بعض دوستوں نے میرے متعلق یہ کہا ہے کہ میرے مانگنے کی وجہ سے لوگوں پر اثر ہو جاتا ہے مگر میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اخلاص اور ایمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نفوس پر غور کریں اور تاریخ عالم پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ امر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ سچی بات تو یہ ہے کہ نہ آپ لوگوں نے چندہ دیا اور نہ میں نے مانگا۔ہم میں سے ایک شخص کی زبان پر اللہ تعالیٰ بیٹھ جاتا ہے اور اپنے بندوں کو آواز دیتا ہے کہ اے میرے بندو! آؤ اور دین کی مدد کرو۔پھر وہ اُسی وقت دوڑ کر دوسرے لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتا ہے اور اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلوا دیتا ہے کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں، ہمارے مال اور ہماری جانیں دین کے لئے حاضر ہیں اس سے زیادہ میرے مانگنے اور آپ لوگوں کے دینے کی کوئی حیثیت نہیں۔یہی سنت دنیا میں موجود تھی، یہی الفاظ دنیا میں پائے جاتے تھے، یہی قرآن دنیا میں پڑھا جاتا تھا مگر جب تک خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ نہ تھا کہ ابھی لوگوں کے کہنے کا وقت نہیں آیا لوگ نہیں سُنتے تھے اور جب تک خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ لوگوں کے ماننے کا وقت نہیں آیا لوگ نہیں مانتے تھے۔جب خدا نے کہا مان لو تو لوگ ماننے لگ گئے اور جب خدا نے کہا سنو تو وہ سُننے لگ گئے۔پس حقیقت یہ ہے کہ اس میں میرا یا آپ لوگوں کا کوئی دخل نہیں۔جب خدا آسمان پر کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو زمین پر اُس کے مطابق تغیرات پیدا کرنے شروع کر دیتا ہے اور