خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 692 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 692

خطابات شوری جلد دوم ۶۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء حساب سے ہی جماعت کے افراد سے چندہ وصول ہو جائے تو اس قحط کے زمانہ میں بھی جب کہ جلسہ سالانہ کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور ۳۰ ہزار کے قریب پہنچ گئے ہیں، دو تین سالوں میں ہم اِس مد سے دس پندرہ ہزار روپیہ بطور ریز روفنڈ جمع کر سکتے ہیں اور پھر اس فنڈ سے مستقل جلسہ گاہ بن سکتی ہے۔ہمارا جلسہ گاہ پر ہی سالانہ ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔اگر یہ ریز روفنڈ قائم ہو جائے تو نہ صرف ہر سال جلسہ گاہ کا خرچ بچ سکتا ہے بلکہ مستقل جلسہ گاہ بنانے کے لئے بھی اخراجات نکل سکتے ہیں۔اگر ہم اس فنڈ میں ۲۵ ہزار روپیہ جمع کر دیں جو چندہ جلسہ سالانہ کے بجٹ کے لحاظ سے تین سال میں جمع ہوسکتا ہے تو ہمارا جلسہ گاہ اخراجات سے آزاد ہو جاتا ہے اور پھر بقیہ رقم کو ریز روفنڈ کے طور پر رکھا جاسکتا ہے۔غرض چندہ جلسہ سالانہ دس فی صدی شرح کے حساب سے ہی اگر صحیح طور پر جمع کیا جائے تو ہمیں اس میں کافی بچت ہو سکتی ہے۔ہیں فیصدی تک چندہ جلسہ سالانہ کی شرح کو بڑھانے کا تو احتمال بھی پیدا نہیں ہوتا۔پس میں سمجھتا ہوں یہ بھی ایک تجربہ کے قابل بات ہے۔خصوصاً اس سال جو گرانی کے لحاظ سے مشکل ترین سالوں میں سے ہے۔اب بھی اگر پورے طور پر زور دیا جائے اور چندہ جلسہ سالانہ کی وصولی کے لئے صحیح جدو جہد کی جائے تو شرح کی کمی کے باوجود چندہ کی وصولی میں کمی نہیں آسکتی۔ناظر صاحب بیت المال کو چاہئے کہ وہ اخبار کے ذریعہ یہ اعلان کر دیں کہ ہم جماعتوں کو اس سال دس فی صدی شرح کے حساب سے چندہ جلسہ سالانہ دینے کی اجازت دیتے ہیں۔بشرطیکہ جتنا چندہ انہوں نے پچھلے سال دیا تھا اس سال اُس سے دس پندرہ فی صدی زیادہ ادا کریں۔مثلاً جس جماعت نے گزشتہ سال ایک ہزار روپیہ چندہ دیا ہے وہ اس سال گیارہ سو روپیہ جمع کرا دے۔تو اُسے دس فی صدی شرح کے حساب سے چندہ جلسہ سالانہ دینے اور اپنی جماعت کے دوسرے لوگوں سے چندہ وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔اس زیادتی کا فائدہ یہ ہوگا کہ سیکرٹریان مال کو اس غرض کے لئے خاص طور پر جدوجہد کرنی پڑے گی اور بار بارلوگوں کے پاس جانا پڑے گا تا کہ یہ بار ساری جماعت پر مجموعی طور پر پڑے اور اس طرح جو نا دہند یا چندہ دینے میں سُست ہیں وہ بھی ہوشیار ہو جائیں گے اور کوشش کرنے والوں کو ثواب بھی مل جائے گا۔یہ جو میں نے گزشتہ سال کے چندہ میں دس فیصدی زیادتی کا جماعتوں سے