خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 691 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 691

خطابات شوری جلد دوم ۶۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہیں اُس سال اسی نسبت سے چندہ کی وصولی کم ہو گئی۔مگر میرے نزدیک اُن کا یہ خیال درست نہیں کہ جس نسبت سے چندہ کی شرح میں کمی کی گئی تھی اُسی نسبت سے وصولی میں کمی آگئی کیونکہ اُنہوں نے بتایا یہ ہے کہ ۳۸ - ۱۹۳۷ ء میں جب کہ جلسہ سالانہ کی شرح ۱۵ فیصدی تھی انہیں ۱۸ ہزار روپیہ وصول ہوا۔مگر ۳۹۔۱۹۳۸ء میں جب کہ یہ شرح کم کر کے دس فی صدی کر دی گئی تھی تو ۱۵ ہزار روپیہ وصول ہوا حالانکہ اگر اسی نسبت سے چندہ میں کمی آتی تو اس سال بجائے ۱۵ ہزار کے ۱۲ ہزار روپیہ آنا چاہیئے تھا۔پس ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس سال اسی نسبت سے چندہ کی وصولی کم ہو گئی۔ہاں ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس سال پوری جد و جہد نہیں کی گئی اور نہ ممکن تھا اتنی کمی نہ ہوتی۔اگر نسبت کے لحاظ سے کمی واقع ہوتی تو چند ۱۲۰ ہزار آنا چاہئیے مگر چونکہ اس سال چندہ ۱۵ ہزار آیا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس سال زیادہ زور دیا جاتا تو یہ کمی بھی نہ ہوتی۔اب بھی جیسا کہ امید کی جاتی ہے اگر پندرہ فی صدی کے حساب سے چندہ جلسہ سالانہ جماعت کے تمام دوست ادا کریں تو ۵۸ ہزار روپیہ وصول ہو سکتا ہے۔سب کمیٹی کا اندازہ یہ ہے کہ اس طرح ۶۹ ہزار روپیہ وصول ہو سکتا ہے مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔اس سال کے بجٹ میں چندہ عام کی رقم ایک لاکھ ۶۵ ہزار روپیہ تجویز کی گئی ہے جس پر پندرہ فی صدی کے حساب سے ۳۳ ہزار روپیہ وصول ہو سکتا ہے اور حصہ آمد دو لاکھ ہے اس پر پندرہ فی صدی کے حساب سے قریباً ۲۵ ہزار آمد ہو سکتی ہے۔گویا ۵۸ ہزار روپیہ اس صورت میں وصول ہو سکتا ہے جب ہر شخص سے اس کی ماہوار آمد پر پندرہ فی صدی کے حساب سے چندہ جلسہ سالا نہ وصول کیا جائے۔سب کمیٹی نے اس کا انداز ہ ۶۹ ہزار روپیہ لگایا ہے۔گویا اس کے اندازہ میں 11 ہزار روپیہ کی زیادتی ہے۔بہر حال اگر پندرہ فی صدی شرح کے حساب سے ۵۸ ہزار روپیہ وصول کیا جاسکتا ہو تو دس فی صدی کے حساب سے ۳۸ ہزار روپیہ وصول ہوسکتا ہے۔اگر جماعت کے بعض نادہند اس میں سے نکال دیئے جائیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کوئی جماعت ایسی نہیں ہوتی جس میں کمزور یا منافق لوگ موجود نہ ہوں اور اس قسم کے لوگوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔تب بھی جماعت کے دوستوں سے ۳۵ ہزار روپیہ کی رقم دس فی صدی شرح کے حساب سے آسانی کے ساتھ وصول کی جاسکتی ہے۔اگر دس فی صدی شرح کے