خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 672
خطابات شوری جلد دوم ۶۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اسی طرح بعض عورتوں کے جسم کی بناوٹ ایسی اچھی ہوتی ہے کہ باوجود برقع یا چادر کے ہو سکتا ہے کہ کوئی نا معقول انسان کسی عورت پر فریفتہ ہو جائے۔اسی طرح موٹا ہونا یا جسم کا دبلا ہونا یہ بھی اثر رکھنے والی چیزیں ہیں مگر ان کو چھپایا نہیں جا سکتا۔اسی طرح بعض اور حالات ہوتے ہیں جن میں ایک عورت بعض دفعہ مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ مخصوص پردہ کو ترک کر دے مثلاً ایک عورت بیمار ہو اور اس کی آنکھ میں کوئی تکلیف ہو تو وہ مجبور ہوتی ہے کہ ڈاکٹر کو اپنی آنکھ دکھائے۔اسی طرح اگر کسی عورت کے دانت میں درد ہے تو وہ ڈاکٹر کو جب اپنا دانت دکھائے گی ضروری ہے کہ اس کے ہونٹ اور اس کے کلے کا کچھ حصہ نگا ہو اور ڈاکٹر اُسے دیکھے۔یا اگر نبض دکھائے گی تو ہاتھ ضرور ننگا کرنا پڑے گا۔یہ مجبوریاں ایسی ہیں جن کو شریعت محوظ رکھتی ہے اور اس کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسی مجبوریاں پیش آجائیں تو وہ مجبوری والے حصہ میں پردہ کو اُٹھا سکتی ہے لیکن مجبوری کا لفظ جو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کی بھی کوئی نہ کوئی حد بندی ہے۔یہ نہیں کہ جو بات نظر آئے اُسے مجبوری قرار دے دیا جائے۔بعض دوستوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آیا یہ بہتر ہے کہ لڑکیاں کالجوں میں لڑکوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کریں یا یہ بہتر ہے کہ ہماری عورتیں بیمار ہوں اور انہیں علاج کے لئے ڈاکٹروں کے سامنے بے پردہ ہونا پڑے حالانکہ عورتوں کی کئی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو مخصوص اعضاء کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر یہ بات بڑی دلکش نظر آتی ہے۔اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ عورتوں کے رحم میں آنول کا کوئی حصہ رہ جاتا ہے اور ڈاکٹروں کو ہتھیاروں کے ذریعہ اُسے نکالنا پڑتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم کوئی نئی شریعت بنا ئیں۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم حالات کے پیش آنے پر یہ دیکھتے چلے جائیں کہ شریعت نے اُن کے متعلق کیا ہدایت دی ہے۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت اگر ہم اس بات پر غور کریں تو پھر یہ سوال ہمارے سامنے آئے گا کہ آیا یہ مجبوری ہے کہ ایک بیمار عورت کو ڈاکٹر کے سامنے اپنا منہ نگا کرنا پڑتا ہے یا رحم کی بعض امراض کا اُسے علاج کرانا پڑتا ہے یا یہ مجبوری ہے کہ ہم یہ فرض کر کے کہ آئندہ احمدی عورتوں کو ایسی مشکلات پیش آسکتی ہیں جماعت کی لڑکیوں کو مخلوط تعلیم کی اجازت دے دیں؟ بے شک