خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 665
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء باوجود ہم یتامیٰ کی طرف کبھی پوری توجہ نہیں کرتے حالانکہ یتامیٰ کی پرورش ہی ایک ایسی چیز ہے جو قوم کو مضبوط اور بہادر اور نڈر بنایا کرتی ہے۔اگر ایک بچہ یتیم ہو اور دس آدمی اُس یتیم کی پرورش کے لئے آگے بڑھیں اور کہیں کہ اس بچہ کو ہمارے سپرد کیا جائے ہم اپنے بچوں کی طرح اس کی پرورش کریں گے اور اس کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں گے تو وہ قوم کبھی مٹ نہیں سکتی، وہ قوم کبھی بزدل نہیں رہ سکتی۔دنیا میں انسان اپنی موت سے کبھی اتنا نہیں گھبرا تا جتنا اس خیال سے گھبراتا ہے کہ اُس کی بیوی بیوہ اور اُس کے بچے یتیم رہ جائیں گے۔اگر ایک ہزار بُزدل ہوں تو اُن ہزار میں سے پندرہ صرف اپنی موت کے خوف کی وجہ سے بُزدل ہوں گے لیکن باقی سب ایسے ہی ہوں گے جو اپنی بیویوں کی بیوگی اور اپنے بچوں کے یتیم ہونے کی وجہ سے موت سے ڈرتے ہو نگے۔وہ روزانہ اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا اُس کے بچے یتیم رہ گئے۔ہمسایہ آیا اور اُن بچوں کو لے گیا مگر حالت یہ ہے کہ وہ بات بات پر اُن کو جھڑکتا ہے، بات بات پر اُن کو تھپڑ مارتا ہے، کبھی بید کی چھٹڑیوں اور کبھی ٹوٹ کی ٹھوکروں سے ان کی تواضع کرتا ہے۔لوگ اِن حالات کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہم مر تو جائیں مگر کیا کریں کہ اگر مر گئے تو یہی حال ہمارے بچوں کے ساتھ بھی ہوگا۔اگر قوم میں سے یتیم کے ساتھ بدسلوکی کا احساس مٹا دیا جائے تو ساتھ ہی موت کا خوف لوگوں کے دلوں میں سے جاتا رہے گا۔اور پھر یہ سوال بھی مٹ جائے گا کہ اس غرض کے لئے کوئی یتیم خانہ ہونا چاہئے کیونکہ بچے کی تربیت گاہ عورت کی گود ہے، بچے کی پرورش گھر کی چار دیواری میں ہوا کرتی ہے، کوئی بڑے سے بڑا یتیم خانہ بھی اُن کی تعلیم اور پرورش کا صحیح انتظام نہیں کرسکتا۔عربوں میں یہ خوبی پائی جاتی تھی کہ وہ یتامیٰ کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے اس عمدگی کے ساتھ یتامی کی پرورش کی کہ بڑے ہو کر وہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکے کہ اُن کا باپ کوئی اور تھا یا اُن کی ماں کوئی اور تھی۔یہ احساس اگر قومی طور پر تمام افراد میں پیدا ہو جائے تو یتامیٰ کا بوجھ بھی نہ رہے اور اُن کی پرورش بھی اعلی پیمانہ پر ہو جائے۔زندوں کی تعداد ہمیشہ مرنے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔اس صورت میں ایک ایک یتیم کے لئے ہیں میں گھرانوں کی ڈیوڑھیاں