خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 664

خطابات شوری جلد دوم ۶۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء بچوں سے کیا جاتا ہے اس کی ایک مثال بھی اب تک میں نے نہیں دیکھی۔نہ اپنے گھر میں اور نہ جماعت کے کسی اور دوست کے نمونہ میں۔سورۃ الضحیٰ ایک ایسی سورۃ ہے جسے میں روزانہ التزام کے ساتھ عشاء کی نماز میں پڑھا کرتا ہوں۔اس سورۃ کے پڑھتے ہوئے جب میں اس آیت پر پہنچتا ہوں کہ آخر يجدك يتيما فادى تو میرے دل میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے آلسفر يجدك يتيما فادی کہہ کر ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھو تمہارا رسول بھی یتیم رہ گیا تھا اگر تمہارے دل میں اپنے رسول کی کوئی عزت ہے تو تمہیں بھی یتامی کی پرورش اور ان کی نگہداشت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے مگر اب تک میں جماعت کے اندر یہ احساس کامل طور پر پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔اگر ہماری جماعت کے ہر فرد کے اندر وہ احساس موجود ہو جو ایک زندہ قوم کے افراد کے دلوں میں پایا جانا چاہئے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس کے لئے ہمیں کسی یتیم خانہ قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ہر ہمسایہ اپنے مرنے والے بھائی کے بچے شوق سے پالنے کے لئے تیار رہے گا اور وہ سمجھے گا کہ اگر میں اپنے بھائی کے بچوں کی پرورش کروں گا تو اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو بھی ضائع ہونے سے محفوظ رکھے گا۔مجھے تعجب آتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بُھول جانے والی چیز وہی ہے جو سب سے زیادہ یقینی ہے۔لوگ موت کو بھول جاتے ہیں حالانکہ موت ہی وہ چیز ہے جس کے یقینی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یتامی کی پرورش کے متعلق اسی رنگ میں توجہ دلائی ہے۔کیا تمہیں خیال نہیں آتا کہ اس امر کا ہر وقت امکان موجود ہے کہ تم مرجاؤ اور اپنے بچوں کو یتیم چھوڑ جاؤ اور جب کہ ایسا امکان تمہارے لئے موجود ہے تو تم کیوں یتامی کی پرورش کی طرف خیال نہیں رکھتے۔کیا اتنی موٹی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتی کہ جو سلوک تم دوسروں کے یتیم بچوں سے کر رہے ہو وہی کل تمہارے مرنے پر تمہارے بچوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔پھر کیوں اُن کی پرورش کا کوئی مستقل انتظام نہیں کر دیتے تا کہ تمہارے بچے بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کے بچے بھی محفوظ رہیں۔یتامی کی پرورش قوم کو نڈر بناتی ہے دیکھو ہم میں سے ہر شخص وہ ہے جس کے بچے یتیم ہونے کے خطرہ میں ہیں مگر اس کے