خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 663 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 663

خطابات شوری جلد دوم ۶۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہمارے لئے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا موجب ہو۔ایسا نہ ہو کہ ہم کسی کوتا ہی کا ارتکاب کر کے اس کی ناراضگی کے مورد بن جائیں۔میں نے اس کے لئے ایک کمیٹی مقرر کرنے کی ہدایت دے دی ہے جو اپنے وقت پر تجاویز پیش کرے گی لیکن میں سمجھتا ہوں یتیم کی خدمت اور اُس کی صحیح رنگ میں تعلیم و تربیت اتنا اہم کام ہے کہ کوئی جماعت جو زندہ رہنا چاہتی ہو وہ کسی صورت میں بھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔یتامی کے بارہ میں دکھ کا اظہار مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یتامی کی خدمت اور اُن کی پرورش کا احساس اس زمانہ میں لوگوں کے اندر بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔الفاظ میری زبان سے نہیں نکلتے بلکہ شرم سے میری زبان مفلوج ہو جاتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ مجھے اب تک ایک مثال بھی ایسی نہیں ملی کہ ہماری جماعت میں سے کسی نے یتیم پروری کی ہو۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آئی تو میں اپنے آپ کو بھی مستقلی نہیں کرتا۔میں نے کئی دفعہ کوشش کی ہے کہ میں اپنے گھر میں کسی یتیم بچے کو رکھوں اور اُس کی پرورش کروں۔میں اُس کے کھانے اور اُس کے پینے اور اُس کے کپڑے وغیرہ کا خرچ بھی دیتا رہا مگر کچھ عرصہ کے بعد جب میں نے دیکھا تو مجھے وہ یتیم بچہ گھر میں ایک ملازم کی شکل میں نظر آیا اور میں نے اس سے وہی سلوک ہوتے دیکھا جو ایک ملازم سے کیا جاتا ہے اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ایک یتیم کو بھی پالا ہے۔میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کئی یتیموں کو کپڑے دیئے ، میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کئی یتیموں کو روٹی دی ، میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کئی تیموں کو پڑھنے کے لئے کتابیں خرید کر دیں، میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کئی قیموں کی اپنی رگرہ سے فیسیں ادا کیں، میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کئی یتیموں کو تعلیم دلوائی مگر میں یہ نہیں کہ سکتا کہ میں نے کسی ایک یتیم کو بھی پالا ہے کیونکہ اگر وہ بورڈنگ میں رہا تو اس کی تربیت میں نے نہیں کی میں نے صرف اُس کے اخراجات کے لئے روپیہ دیا۔اگر وہ گھر میں رہا تو میں نے اُسے ہمیشہ ایک نیم ملازم کی حیثیت میں دیکھا۔میں اُن لوگوں کو مستی کرتا ہوں جو کسی کو لے پالک بنا لیتے ہیں وہ بالکل اور چیز ہے مگر یہ کہ اپنے بچے موجود ہوں اور پھر کسی یتیم بچے کو اپنے بچوں کی طرح پالا جائے اور اُس سے وہی سلوک کیا جائے جو اپنے