خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 662

خطابات شوری جلد دوم ۶۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء دستِ سوال دراز کرنا پڑے۔میں نے یتامی و مساکین کی نگہداشت اور ان کی پرورش کے متعلق کئی بار کوششیں کیں مگر مجھے افسوس ہے کہ اب تک مجھے ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ایک دفعہ میں نے ایک دوست کے سپرد میر محمد اسحاق صاحب کا قابلِ تعریف کام کئی یتامی و مساکین کئے، وہ دوست اب فوت ہو چکے ہیں میری غرض یہ تھی کہ اُن کی تربیت اور ان کی پرورش اور ان کی نگرانی کا انتظام کیا جائے مگر کچھ عرصہ کے بعد ہی مجھے رپورٹ پہنچی کہ وہ اور ان کے رشتہ دار سارا دن اُن یتامیٰ سے خادموں کی طرح کام لیتے رہتے ہیں۔آخر میں نے فیصلہ کیا کہ ایسا انتظام کرنے کی بجائے جس میں یتامی و مساکین سے نوکروں کی طرح کام لیا جائے کیوں نہ میں صاف طور پر کہہ دوں کہ میں کوئی انتظام نہیں کر سکتا۔ہاں روپیہ کی امداد مجھ سے جس قدر مانگی جائے وہ میں دینے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ اس کے بعد وہ انتظام تو ڑنا پڑا اور میں اپنے طور پر روپیہ وغیرہ سے اُن کی امداد کرتا رہا لیکن میں سمجھتا ہوں جہاں ہماری جماعت مشترکہ طور پر یتامی و مساکین کی خبر گیری میں ناکام رہی ہے وہاں میر محمد اسحاق صاحب نے اس میں کامیابی حاصل کر لی اور انہوں نے سو ڈیڑھ سو ایسے غرباء اور یتامی و مساکین کو جن کے کھانے پینے اور لباس اور رہائش وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں تھا ، اپنی نگرانی میں رکھ کر ایسے رنگ میں اُن کی تربیت اور تعلیم کا کام کیا جو نہایت قابل تعریف ہے۔میر صاحب نے جن جن مشکلات میں یہ کام کیا ہے اُن کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وہ مشکلات یقیناً ایسی ہیں جو اُن کے کام کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں انہوں نے اتنے سال کام کر کے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا کر دی ہے اور اب جماعت کے افراد کو بھی محسوس ہونے لگ گیا ہے کہ اُنہیں یتامی و مساکین کی خبر گیری کرنی چاہئے اور گو اس کا احساس انہیں اس وجہ سے پیدا ہوا کہ یتامیٰ اپنے لئے آٹا مانگ کر لاتے ہیں مگر بہر حال میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یتامیٰ کے فاقوں نے ہماری جماعت کے اندر جو احساس پیدا نہ کیا وہ احساس اُن کے بھیک مانگنے نے پیدا کر دیا۔اب ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس انتظام کو جاری رکھیں اور ایسے رنگ میں جاری رکھیں کہ یہ کام