خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 661
خطابات شوری جلد دوم ۶۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ذریعہ سے لوگوں سے مانگتا رہتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب وفات پا گئے تو صدر انجمن احمدیہ نے میرے سپر دلنگر خانہ کا کام کر دیا۔خواجہ کمال الدین صاحب عام طور پر میرے کاموں کو پسند نہیں کیا کرتے تھے لیکن اگر میں کام نہ کرتا تو حضرت خلیفہ اول سے یہ شکایت کر دیتے کہ میاں ہماری مدد نہیں کرتے۔بہر حال جب یہ کام میرے سپرد ہوا تو خواجہ صاحب نے حقارت کے طور میرے متعلق لانگری کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ جب بھی میں اُن سے ملتا کہتے آگئے لانگری صاحب۔وہ سمجھتے کہ اس طرح میری خوب ہتک ہوتی ہے مگر میں پرواہ بھی نہ کرتا۔آخر چند دن کے بعد وہ خود ہی تھک گئے اور اُنہوں نے اس لفظ کا استعمال ترک کر دیا۔تو کچھ حقارت کے الفاظ ہوتے ہیں جن کا استعمال لوگ اپنے لئے ہتک کا موجب سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ امر اچھی طرح مد نظر رکھ لینا چاہئے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور اللہ سے روزانہ سوال کرنا ہمارا کام ہے۔پس جب ہم اللہ سے روزانہ مانگتے ہیں تو اُس کے سلسلہ کے لئے اگر ہمیں کچھ مانگنا پڑے تو اس میں ہمارے لئے ہر گز کوئی ہتک نہیں ہو سکتی۔مانگنا وہ بُرا ہوتا ہے جس میں انسان اپنے لئے یا اپنے ایسے عزیزوں کے لئے مانگے جن کی ذمہ داری اُس پر ہو۔دارالشیوخ میں رہنے والے چونکہ اپنے لئے دوسروں سے آٹا مانگتے ہیں، اس لئے یہ یقیناً ایسی بات ہے جو قابل اصلاح ہے۔چنانچہ جن لڑکوں کو عزت نفس کا احساس ہوتا ہے اُن پر یہ بات سخت گراں گزرتی ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کے ایک لڑکے سے میں نے اس کے متعلق سوال ہی کیا تو وہ رونے لگ گیا لیکن میں سمجھتا ہوں اب تک بھی دار شیوخ کی اہمیت ہماری جماعت نے صحیح طور پر نہیں سمجھی۔انہیں جس امر سے بہت ہی تکلیف ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ لڑکے ہر جمعہ کو لوگوں کے گھروں سے آٹا مانگ کر لے آتے ہیں۔اس طرح گھر بہ گھر پھر کر اُن کا آٹا مانگنا ہماری جماعت کے تمام افراد کے لئے سخت دکھ اور تکلیف کا موجب ہوا ہے لیکن انہوں نے کبھی اس حقیقت پر غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے اور یہ کہ اگر وہ غرباء اور یتامیٰ کے متعلق یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ وہ دوسروں کے گھروں سے آٹا مانگ کر لائیں تو انہیں اس بات کی بھی تو کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے غرباء اور بیتامی و مساکین ایسی حالت میں نہ رہیں کہ اُنہیں اپنے نفس کے لئے لوگوں کے سامنے