خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 641

خطابات شوری جلد دوم ۶۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اس طرح اخراجات کے بار کو ہلکا کرنے کی کوشش کی گئی تب کہیں جا کر ہماری مالی حالت درست ہوئی۔پس یہ ترقی عارضی ہے اور اس ترقی کی وجہ سے اخراجات کو بڑھانے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ریز روفنڈ کے لئے ہدایات انہیں چاہئے کہ بجائے اخراجات میں زیادتی کرنے کے اس عارضی ترقی کو خدا تعالیٰ کا خاص فضل سمجھ کر اپنے قرضوں کو اُتاریں اور آئندہ کے لئے اسی آمد میں سے ایک ریز روفنڈ قائم کر دیں تا کہ اگر حوادث زمانہ کے ماتحت کبھی ہماری آمد میں کمی ہو تو اس ریز روفنڈ سے پوری کی جا سکے۔اگر اس رنگ میں اخراجات کو بڑھا دیا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ اخراجات سلسلہ پر ایک مستقل بار بن جائیں گے اور اگر کسی وقت اِس آمد میں ساٹھ ستر ہزار کی کمی آگئی تو ان اخراجات کو برداشت کرنا بالکل ناممکن ہو جائے گا کیونکہ آمد کم ہو گی اور اخراجات زیادہ ہوں گے۔پس اس وقت اخراجات کو بڑھانے کی کوئی تجویز میں منظور کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو ریز رو فنڈ اور قرض اُتارنے کی سکیمیں دونوں خطرہ میں پڑ جائیں گی۔پس اس غرض کے لئے جو سب کمیٹی تجویز ہو گی اُس کے سامنے میں چند تجاویز رکھتا ہوں۔ناظر صاحب بیت المال ان تجاویز کو نوٹ کر لیں اور کمیٹی کے ممبران کے سامنے پیش کر دیں۔(1) میری پہلی تجویز یہ ہے کہ جہاں تک بجٹ کا تعلق ہے اس کے لحاظ سے میرا وہ قانون قائم ہے کہ پندرہ ہزار کی کمی ۴۲۔۱۹۴۱ء کے بجٹ پر ہونی چاہئے۔وہ۴۲۔۱۹۴۱ء کا بجٹ سامنے رکھ لیں اور پھر اس بجٹ سے پندرہ ہزار روپیہ کی کمی کر کے نئے سال کا بجٹ تیار کریں۔ہاں زائد اخراجات جن کی میری طرف سے اجازت دی جا چکی ہے وہ بعد میں اس میں جمع کر دیں۔یہ زائد اخراجات چونکہ جنگ کی وجہ سے ہیں اس لئے ان اخراجات کو اصل بجٹ سے علیحدہ دکھانا چاہئے۔جیسے سپلیمنٹری بجٹ ہوتا ہے تا کہ ہر شخص کو یہ معلوم ہوتا رہے کہ جنگ کے خاتمہ پر یہ اخراجات خود بخود ہٹ جائیں گے۔(۲) میری دوسری تجویز یہ ہے کہ وہ یہ امر ہر وقت اپنے پیش نظر رکھیں کہ کم سے کم ڈیڑھ دو سال کی آمد کے برابر انہوں نے چند سالوں میں اسی آمد میں سے بچت کر کے