خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 637

خطابات شوری جلد دوم ۶۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء تو اس کے مناسب حال جماعت کے سامنے اپنے خیالات رکھتا چلا جاؤں گا۔البتہ ایک بات میں ضرور کہنا چاہتا ہوں مگر وہ ایجنڈا پڑھنے کے بعد بیان کروں گا۔اس دفعہ کے ایجنڈے میں نظارت علیا، نظارت تعلیم و تربیت، نظارت بیت المال، نظارت تألیف و تصنیف، نظارت امور عامہ اور نظارت بہشتی مقبرہ کی طرف سے تجاویز پیش ہیں۔“ اس کے بعد حضور نے تمام ایجنڈا پڑھ کر سنایا۔نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے ایک تجویز یہ پیش ہوئی تھی کہ قادیان میں دار الشیوخ کا موجودہ انتظام چونکہ قابلِ اعتراض ہے اس لئے مجلس مشاورت ایک کمیٹی مقرر کرے جس کے ممبران اس انتظام کو بہتر بنانے کی 66 تجویز پر غور کریں۔“ اس کے متعلق حضور نے فرمایا : - " حسب اطلاع ناظر صاحب ضیافت، دفتر تعلیم و تربیت نے اطلاع دی ہے کہ اب کئی ماہ سے طلباء دار الشیوخ آٹا فراہم نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے تنخواہ دار آدمی رکھا ہوا ہے۔اس لئے اس تجویز کو ایجنڈا سے نکال دیا جائے۔“ اسی طرح نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے ایک اور تجویز بھی پیش کی گئی جس کا ذکر گوایجنڈے میں نہیں تھا مگر ضمیمہ ایجنڈا کے طور پر اُسے الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۴۳ء میں شائع کر دیا گیا تھا۔وہ تجویز یہ ہے:۔(الف) معلوم ہوا ہے کہ بعض افراد بے پردگی اور ( لڑکوں اور لڑکیوں کی ) مخلوط تعلیم کا رواج دے رہے ہیں اس کے انسداد کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے مجلس شوری میں معاملہ پیش کیا جائے گا۔“ ایجنڈا سنانے کے بعد حضور نے فرمایا: - نظارت اعلیٰ کی جو تجاویز ہیں اُن کے لئے میں دس ممبروں کی کمیٹی مقرر کرنا چاہتا ہوں۔نظارت تعلیم و تربیت کی تجاویز کے لئے بھی دس آدمیوں کی سب کمیٹی مقرر کی جائے گی۔دار الشیوخ کے متعلق جو تجویز ہے وہ ناظر صاحب ضیافت کے کہنے پر میں اُڑاتا نہیں بلکہ اسے بھی ایجنڈے میں شامل رکھتا ہوں۔یہ تجویز لائل پور کی جماعت کی طرف سے آئی ہے۔ہمیں معلوم نہیں کہ ناظر ضیافت کے اس جواب سے کہ اب دار الشیوخ کے طلباء خود آٹا فراہم نہیں