خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 615
خطابات شوری جلد دوم ۶۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہئے یعنی جو شخص ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت سے انکار کا مدعی ہو یا خود کہے کہ میں سلسلہ احمدیہ سے روگردان ہوتا ہوں اُسے اس کا مال واپس دیا جائے۔جس شخص کو سلسلہ بطور سز ا نظام سے الگ کرتا ہے اور وہ خود سلسلہ سے روگردانی کا دعویٰ نہیں کرتا اُسے اُس کا مال واپس دینے کا اِس قاعدہ میں کوئی ذکر نہیں۔جو شخص ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت سے منکر نہیں ہوتا بلکہ کسی اور وجہ سے اپنی وصیت کو منسوخ کراتا ہے یا جوشخص یہ نہیں کہتا کہ میں سلسلہ سے روگردان ہوتا ہوں کوئی وجہ نہیں کہ اُسے اُس کا مال دیا جائے کیونکہ اس میں وہ شرطیں نہیں پائی جاتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قاعدہ نمبر ۱۲ میں بیان فرمائی ہیں۔میرے نزدیک اس ترمیم کو رڈ کر دیتی ہے شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم۔لیکن یہ ترمیم شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم کو رڈ نہیں کرتی بلکہ اسے محدود کرتی ہے۔ان حالات میں میرے نزدیک پہلے خلیل احمد صاحب ناصر کی ترمیم پیش ہونی چاہئے۔سو پہلے میں خلیل احمد ناصر صاحب کو کہتا ہوں انہیں اپنی ترمیم کی تائید میں دو منٹ بولنے کی اجازت ہے خلیل احمد صاحب ناصر کی رائے پیش ہونے پر حضور نے فرمایا : - د خلیل احمد صاحب ناصر کہتے ہیں کہ میرے نزدیک وصیت کا روپیہ صرف اسی شخص کو واپس ملنا چاہئے جو ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا انکار کر دے مثلاً کہے کہ مجھے اب اعتبار نہیں رہا کہ وصیت کرنے کے نتیجہ میں ضرور جنت ملتی ہے یا قبل اس کے کہ جماعت اس کو خارج کرے وہ خود کہے کہ میں سلسلہ سے روگردان ہوتا ہوں۔وہ شخص روپیہ واپس لینے کا مجاز نہیں جو سلسلہ سے وابستگی کا تو دعوی کرے مگر نظام سلسلہ نے تعزیر کے طور پر اُسے الگ کیا ہو۔اسی طرح وہ شخص بھی روپیہ واپس نہیں مانگ سکتا جو شعف ایمان کے علاوہ کسی اور وجہ سے اپنی وصیت منسوخ کرا دے۔بہر حال جو شخص ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا منکر ہو جائے یا سلسلہ سے روگردانی اختیار کر لے اسے اس کا تمام مال بغیر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا فرق کرنے کے اور بغیر چندہ عام منہا کرنے کے اور بغیر اس کے کہ وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے واپس کر دینا چاہئے لیکن جو شخص ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا منکر نہ ہو یا جو شخص جماعت سے تعزیری طور پر خارج کیا گیا ہو اور وہ نظام سلسلہ سے تو علیحدہ ہومگر