خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 611

خطابات شوری جلد دوم ۶۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء مجھ سے غلطی ہو جائے اور وہ ترمیمیں آگے پیچھے پیش ہو جائیں۔میں نے پیرا کبرعلی صاحب سے اس بارہ میں مشورہ کیا تھا وہ کہتے ہیں کہ شیخ بشیر احمد صاحب والی ترمیم ایسی ہے کہ اگر وہ پاس ہو جائے تو باقی سب ترمیمیں رڈ ہو جاتی ہیں مگر میرے نزدیک یہ دوستوں سے انصاف نہیں ہوگا کہ ایسی ترمیم پہلے ہی پیش کر دی جائے جس کے پاس ہونے کے نتیجہ میں باقی ترمیمیں رڈ ہو جائیں۔عام قانون یہی ہے کہ ایسی ترمیم پہلے پیش کرنی چاہئے جو دوسروں کی ترمیموں کو ر ڈ نہ کرتی ہو۔اصل تجویز جو سب کمیٹی کی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موصی کو جس کی وصیت ان قواعد کی رو سے منسوخ کی جائے ، چندہ عام مشمولہ حصہ آمد لینے کا حق نہ ہوگا۔یعنی جتنا چندہ عام بنتا ہے وہ کاٹ لیا جائے اور جو وصیت کا حصہ ہے وہ واپس کر دیا جائے۔سب کمیٹی کی اس تجویز کو اختر صاحب کی یہ ترمیم اور چوہدری اعظم علی صاحب کی تشریح کلی طور پر رڈ کرتی ہے کہ قاعدہ نمبر ۱۲ میں مال کا لفظ ہے اور مال کا لفظ جائیداد اور روپیہ وغیرہ سب پر حاوی ہے اس لئے جیسا کہ اب تک تعامل چلا آ رہا ہے تمام مال یعنی چندہ عام بھی اور حصہ وصیت بھی سب کی سب رقم واپس کی جائے اس کے لئے کسی مزید قانون کی ضرورت نہیں،، شیخ بشیر احمد صاحب یہ کہتے ہیں کہ چونکہ آمد کی وصیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قاعدہ کے وقت کہ مرتد اور منکر از وصیت کا مال رڈ کر دیا جائے موجود نہ تھی اس لئے رڈ کرنے کا قاعدہ آمد کے مالوں پر چسپاں ہی نہیں ہوتا۔نیز آمد کا مال خرچ ہوتا جاتا ہے نہ قبضہ میں ہوتا ہے نہ قائم رہتا ہے اس لئے حصہ آمد کا مال کسی صورت میں بھی واپس نہ کیا جائے۔ہاں اگر مرتد یا منکر از وصیت کی کوئی جائیداد بجنسہ انجمن کے قبضہ میں ہو تو وہ بیشک ارتداد یا انکار از وصیت کی صورت میں واپس ہونی چاہئے۔“ شیخ بشیر احمد صاحب کی تو یہ تجویز ہے لیکن سب کمیٹی نے قاعدہ نمبر ۶ سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس قاعدہ میں ۱۰ را حصہ کی وصیت کا جو ذکر ہے اس میں چندہ عام بھی شامل ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۰را حصہ میں چندہ عام اور دیگر چندوں کو بھی شامل کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے تو وصیتی مال کے واپس کرتے وقت یہ چندہ وضع