خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 601
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کا سبق پڑھا دیا۔پھر وہ عورتوں کو پڑھا سکتے ہیں ان کے لئے اسباق تیار کئے جا سکتے ہیں پس اگر کام لینے والے دیانتداری سے کام کریں تو ایسا پروگرام بنایا جا سکتا ہے کہ ان سے روزانه ۸ - ۱۰ گھنٹہ کام لیا جا سکے۔اس وقت لڑائی ہو رہی ہے اور لوگ پاگلوں کی طرح کام کر رہے ہیں اسی طرح ہم کیوں نہ کریں مگر اس کی ذمہ داری ناظروں پر ہے وہ اگر غور کریں تو اس کے لئے پروگرام بنا سکتے ہیں مگر وہ محنت نہیں کرتے۔بجٹ جو تیار کیا جاتا ہے اس پر بھی کوئی غور اور محنت نہیں کی جاتی۔آخری ۱۵۔۲۰ دن مجلس میں بیٹھے دس پندرہ تجاویز ذہن میں آگئیں کچھ ادھر سے کاٹا کچھ اُدھر سے کاٹا اور اس طرح ایک بجٹ بنا کر سمجھ لیا کہ کام ختم ہو گیا یہ طریق کام کرنے کا نہیں۔ان کو چاہئے کہ اپنے دلوں میں سلسلہ کے کاموں کا درد پیدا کریں اور اس کے مطابق کام کریں۔“ شادی بیاہ کے معاملات کے شادی بیاہ کے موقع پر رسوم سے اجتناب چاہئے سلسلہ میں چند اصلاحی تجاویز مجلس مشاورت میں زیر بحث آئیں۔ان کے بارہ میں حضور نے اپنا نکتہ نگاہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : - ”شادی بیاہ کی رسوم یا دوسری رسوم ایسا نازک اور اہم سوال ہے کہ جو کسی زندہ جماعت کی دائمی توجہ کا مستحق ہے۔دنیا میں تین قسم کے مذاہب ہیں۔ایک وہ جنہوں نے حرمت پر زیادہ زور دیا ہے یہ بھی حرام ہے وہ بھی حرام ہے دوسرے وہ جنہوں نے جلت پر زور دیا ہے جیسے عیسائی مذہب ہے اس نے ہر چیز کو حلال کر دیا ہے سوائے اس کے کہ ابتداء میں سو رعیسائیت میں حرام تھا مگر بعد میں یورپ میں آ کر وہ بھی حلال ہو گیا۔ہندوؤں میں بعض ایسے فرقے ہیں جو حرمت پر زیادہ زور دیتے ہیں مثلاً بھا بڑے اور جینی وغیرہ۔مسلمانوں میں بھی بعض ایسے صوفیاء ہیں کہ جو پلاؤ کھانے لگیں گے تو اس میں تھوڑی سی مٹی ملالیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بھلا ایسے لوگوں کو پلاؤ کھانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ایسے مذاہب کے ماننے والوں کو کوئی مشکل پیش نہیں رہتی۔تیسری قسم اسلام ہے یعنی اس میں بعض چیزیں حلال بھی ہیں اور حرام بھی ہیں۔پھر