خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 600
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء اور وہ بیچ میں بیٹھے ہوں اس لئے موجودہ صورت میں اگر پچاس مبلغ ہوں تو بھی اور اگر سو کر دیئے جائیں تو بھی ان سے کوئی کام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ وہ تو ان کو اپنے ارد گر دہی بٹھا چھوڑیں گے۔کہا گیا ہے کہ مبلغین چھ ماہ قادیان میں رہتے ہیں اور چھ ماہ باہر مگر میرا اندازہ ہے کہ وہ 9 ماہ قادیان میں رہتے ہیں اور صرف تین ماہ باہر۔مجھے اکثر مبلغ یہیں نظر آتے ہیں اور میں ناظر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ مولوی صاحب فلاں مبلغ یہاں ہی ہیں؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہاں حضور وہ رپورٹ دینے آیا ہے۔دو ماہ بعد پھر دیکھتا ہوں اور پوچھتا ہوں تو وہ پھر یہی جواب دے دیتے ہیں کہ ہاں حضور وہ رپورٹ دینے آیا ہے اور اس کئی ماہ کی رپورٹ کے بعد کہا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ پر رخصت پر ہے لیکن بات یہ ہے کہ ایک مبلغ جاتا ہے کہ مولوی صاحب میری بیوی بیمار ہے مجھے چھٹی چاہئے اور ادھر اُدھر کی ایک دو باتیں کرتا ہے تو بس وہ اسے چھٹی دے دیتے ہیں حالانکہ ناظر کو یہ کہاں حق ہے کہ وہ کسی کو مقررہ رخصتوں سے زیادہ رعایت دے۔شرعاً اور اخلاقاً نا جائز بات ہے اور جو افسر ایسی ناجائز رعائتیں دیتا ہے وہ سلسلہ کے مال کا چور ہے۔جو ناظر کسی کو ایک دن کی بھی چھٹی اس کے حق سے زیادہ دیتا ہے وہ سلسلہ کے مال کا ایسا ہی چور ہے جیسا بیت المال سے روپیہ چُرانے والا۔اور پھر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں جب تک مبلغین سے تبلیغ کے ساتھ تعلیم و تربیت کا کام نہ لیا جائے کوئی ناظر دیانتداری سے مبلغین سے کام لے ہی نہیں سکتا کیونکہ ۲۴ گھنٹے تبلیغ کرنا بالکل ناممکن ہے۔کوئی بڑے سے بڑا مخلص بھی اُتنا ہی کام کر سکتا ہے جتنا اُس کی طاقت میں ہے کوئی شخص خواہ کتنا مخلص کیوں نہ ہو اس سے یہ مطالبہ کرنا کہ پہاڑ کو اٹھالو بیوقوفی کی بات ہوگی۔کوئی مبلغ سارا وقت تبلیغ کا کام کر ہی نہیں سکتا۔اصل کام تعلیم و تربیت کا ہی ہے۔اور یہ بات کہ مبلغ تعلیم وتربیت کے کام کے لئے وقت دے ہی نہیں سکتے بالکل غلط بات ہے۔ایک مبلغ نے لاہور جانا ہے مگر تعلیم و تربیت کے محکمہ کو امرتسر میں ضرورت ہے تو اس میں کوئی ہرج نہیں کہ وہ لاہور جانے سے قبل دو یا تین روز امرتسر میں ٹھہر جائے۔آخر اسے کونسا فوجداری مقدمہ در پیش ہوتا ہے کہ سیدھا لا ہور پہنچنا ضروری ہوتا ہے امر تسر ٹھہر کر بھی جاسکتا ہے۔پھر مبلغ جہاں جائے وہاں کے دوست جب اپنے دفتروں وغیرہ میں کام کاج پر چلے جائیں تو وہ بچوں کی تربیت کر سکتا ہے۔کسی کو کلمہ ہی سکھا دیا ، نماز