خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 599
خطابات شوری جلد دوم ۵۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء برابر ہے اور یہ خرچ بالکل عبث اور لغو ہے مگر مبلغین سے اس سے زیادہ تقریروں کی امید رکھنا بھی فضول ہے۔تبلیغ کا کام اتنا ہی وقت کیا جاسکتا ہے باقی وقت میں یا تو وہ دوسرے کام کریں یا بیکار رہیں اور اس روپیہ کا صحیح مصرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان سے دوسرے کام لئے جائیں لیکن یہ انجمن کا کام ہے کہ اس کے لئے تجاویز سوچے۔ناظر بیٹھیں ،سوچیں اور دماغ سے کام لیں تو کئی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں مگر وہ محنت سے کام نہیں کرتے۔وہ مجلس میں آتے ہیں ایجنڈا پیش ہوتا ہے تو پارٹی بازی کے ماتحت مشورے اور آراء دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔وہ اگر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ اس وقت جنگ کے زمانہ میں کس طرح انگلستان میں کو آرڈینیشن (COORDINATION) کی کوشش ہوتی رہتی ہے، کس طرح سارے ملک میں ایک ہلچل سی رہتی ہے۔کبھی ایک وزیر کو بدلاتے ہیں کبھی دوسرے کو اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح کام درست طور پر ہو سکے۔اس طرح اگر انجمن غور کرے تو انگلستان کی وار کیبنٹ کی طرح دعوۃ و تبلیغ ، تعلیم و تربیت اور بیت المال کے کاموں کا پروگرام بنایا جاسکتا ہے اور ایک کمیٹی مقرر کی جاسکتی ہے۔باہم اتصال اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے نائب ناظر مقرر کیا جاسکتا ہے اس طرح تبلیغ کا کام بہت اچھی طرح ہو سکتا ہے۔مبلغ صرف دلیل بیان کرنے والے کو نہیں کہتے بلکہ مبلغ کے کام میں تعلیم و تربیت، خدمت خلق اور تبلیغ وغیرہ سب کام شامل ہیں۔وہ اپنے آپ کو تنخواہ دار ملازم نہ سمجھیں بلکہ اس کام کو اپنا فرض سمجھیں اور اسے خدا تعالیٰ کا احسان سمجھیں کہ تنخواہ بھی مل جاتی ہے ہے ورنہ اصل کام ان کا یہ ہونا چاہئے کہ بہر حال تبلیغ کرنی ہے تنخواہ ملے یا نہ ملے۔جو ناظر ایسے شخص کو مبلغ تصور کرتا ہے جو صرف تنخواہ کے لئے ملازمت کرتا ہے اگر تنخواہ ملتی رہے تو تبلیغ کی ورنہ کوئی اور کام کر لیا وہ ناظر بھی خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔صدرانجمن اگر غور کرے تو کئی تجاویز ہوسکتی ہیں۔تبلیغ کے کام میں اصلاح کی ضرورت بہر حال تبلیغ کے کام میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے۔مبلغین کا بہت سا وقت فضول ضائع ہوتا ہے۔جب سے مولوی عبد المغنی صاحب دعوۃ و تبلیغ کے ناظر ہوئے ہیں میں تو اس محکمہ کو اندر سبھا کہا کرتا ہوں۔ان کو یہ شوق ہے کہ مبلغین ان کے ارد گرد بیٹھے ہوں