خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 44

خطابات شوری جلد دوم ۴۴ مجلس مشا مشاورت ۱۹۳۶ء کیونکہ اول تو آمد کم پھر مرکزی دفاتر کا خرچ زیادہ ہے جسے کم کرنے کی کوئی صورت نہیں کیونکہ اس سے کم کر لیا جائے تو کام بالکل ہی بند ہو جاتا ہے۔پس ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ جس قدر کام کا روپیہ پر انحصار ہے اس کے لئے ہم مستقل آمد کی صورت پیدا کریں اور تبلیغی کاموں کے لئے بھی مزید رقوم کا انتظام کریں۔اس وقت خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے بعض ایسے راستے کھولے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اگر تین چار لاکھ روپیہ کا انتظام ہو جائے تو غالباً ہم لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد کی جائداد پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔جو پہلی خرید شدہ جائداد کے ساتھ مل کر سلسلہ کو مرکزی دفاتر کے اخراجات کے بار سے آزاد کرا سکتی ہے اور اس طرح ہم پورے جوش سے تبلیغ کے کام کو وسیع کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند دن میں ہی اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اس رقم کا انتظام تو اس وقت مشکل ہے۔کم سے کم اگر دوست صدرانجمن احمد یہ کے بقائے ادا کر دیں اور تحریک کا چندہ اِس خلوص سے ادا کریں جس سے اُنہوں نے وعدہ کیا تھا تو کم سے کم ایک معقول بنیاد اس کام کی ڈالی جاسکتی ہے۔گویا مزید قربانی کرنے کے بغیر اگر جماعت اپنے وعدوں کو ہی جلد سے جلد ادا کر دے تو مجھے اپنی سکیم کے مکمل کرنے میں سہولت ہو سکتی ہے۔مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سال تحریک جدید کا چندہ اس سُرعت سے نہیں وصول ہو رہا جس سُرعت سے گزشتہ سال وصول ہوا تھا حالانکہ اس سال چندہ کا وعدہ گزشتہ سال کے وعدے سے زیادہ ہے۔اگر جماعت اُس چوٹ کو یاد رکھتی اور اس تکلیف کو بھول نہ جاتی جو اُسے پہنچی ہے تو وہ ریز روفنڈ کو بہت مضبوط کر دیتی۔اس کے لئے میں تمام مخلص احباب سے تعاون چاہتا ہوں اور وہ اس طرح کہ :- (اول ) جن جماعتوں کے ذمہ تحریک جدید کا چندہ ہے اور جسے انہوں نے اس سال ادا کرنا ہے وہ دو تین ماہ کے اندر اندر بھیج دیا جائے اور یہ انتظار نہ کریں کہ سال کے ختم ہونے تک ادا کر دیں گے۔(۲) کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مکان بنانے یا کسی اور غرض کے لئے روپیہ جمع کر رہے ہوتے ہیں اور روپیہ کے جمع ہو جانے تک انتظار کر رہے ہوتے ہیں ایسے لوگ یا وہ لوگ اپنی ضرورت کو ایک سال پیچھے ڈال سکتے ہیں، میں اُن سے چاہتا ہوں کہ وہ ایک سال