خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 559

۵۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم میں سیر کرنے کے لئے جایا کرتا ہوں تو باغ میں کام کرنے والوں کو یہ ہدایت کر دیا کرتا ہوں کہ جس درخت میں تمہیں کوئی نقص دکھائی دے اُس کے ساتھ ایک سُرخ دھجی باندھ دیا کرو جس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمہیں ان سُرخ دھجیوں والے درختوں کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور دوسرے درختوں کی طرف کم۔اسی طرح ہر نظارت کے پاس جماعتوں کا ایک نقشہ ہونا چاہئے جس میں یہ دکھایا جانا چاہئے کہ جماعتوں کی تعلیمی حالت کیسی ہے، ان کی تربیتی حالت کیسی ہے، ان کے اخلاق کیسے ہیں، ان کی مالی قربانی کیسی ہے۔اگر وہ ایسا کریں تو تمام جماعت کے متعلق فوری طور پر یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کی ترقی کی کیا رفتار ہے۔مثلاً وہ سارے ہندوستان کا نقشہ بنا ئیں اور اس میں ایک رنگ سبز ہو، ایک سرخ ہو، اور ایک اُودا رنگ ہو۔سرخ رنگ میں ان جماعتوں کے نام لکھے جائیں جو ناقص ہوں، سبز رنگ میں ان جماعتوں کے نام لکھے جائیں جو درمیانی حالت میں ہوں اور اُودے رنگ میں ان جماعتوں کے رنگ لکھے جائیں جو اچھی ہوں۔یہ نقشہ سالانہ تیار ہوتا رہے اور جو جماعتیں سست ثابت ہوں وہاں انسپکٹر بھیجے جایا کریں اور پھر نظارتیں موازنہ کیا کریں کہ جماعتوں نے اپنی پہلی حالت میں کہاں تک تغیر پیدا کیا ہے۔بلکہ اگر ایسا نقشہ مجلس شوریٰ کے موقع پر ہال میں لٹکا دیا جایا کرے تو یہ اور بھی زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔اگر اس قسم کا ایک نقشہ یہاں لٹکا ہوا ہو اور اس میں سُرخ رنگ کے ماتحت ان جماعتوں کے نام لکھے ہوئے ہوں جو نمازوں میں ست ہیں، قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں کرتیں، شریعت پر عمل نہیں کرتیں۔اور دوسری طرف ان کے نام ہوں جو درمیانی حالت میں ہیں یا زیادہ اعلیٰ جماعتیں ہیں تو یقیناً ست جماعتوں میں بھی غیرت پیدا ہوگی اور وہ اپنے نقص کو دور کرنے کی کوشش کریں گی۔پھر اگلے سال ممکن ہے جو جماعتیں پہلے سُرخ رنگ کے خانہ میں تھیں وہ سبز یا اُودے رنگ کے خانہ میں چلی جائیں اور جو جماعتیں ان میں سے سُست ہو جائیں وہ سُرخ خانہ میں آجائیں۔اس طرح تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی نظام کو بہت کچھ فائدہ ہوسکتا ہے اور جماعتوں کی مالی قربانی کے متعلق بھی صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یہاں مجلس شوریٰ میں اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے کوئی پندرہ منٹ پہلے آ جاتا ہے، کوئی دس منٹ اور کوئی نصف گھنٹہ۔اس طرح وہ اس فارغ وقت میں نقشہ کو دیکھ کر اپنی اپنی جماعت کی