خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 558
۵۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم جائیں گے کہ ہماری عورتوں کی دماغی اور ذہنی ترقی کس طرح ہو رہی ہے۔اور بعض دفعہ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر کہ عورتوں کی فلاں معاملہ میں جو ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے یہ رائے ہے وہ ان کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے بدل لیں اور انہی کے حق میں فیصلہ کر دیں۔پس آئندہ کے لئے دفتر اس بات کو نوٹ کر لے اور وہ مجھ سے اس بارہ میں ہدایات لے کر اُس شخص کو جو لجنہ کا نمائندہ منتخب ہو تمام آرائیں بھجوا دیا کرے تا کہ جب مجلس شوری میں تجاویز پیش ہوں تو وہ اُٹھ کر بتا سکے کہ فلاں لجنہ کی اس کے متعلق یہ رائے آئی ہے اور فلاں کی یہ تاکہ خصوصیت سے ایسے مسائل میں جن کا تعلق عورتوں سے ہو ان کے جذبات اور احساسات کو مقدم رکھنے کی کوشش کی جائے۔کمزور جماعتوں کی اصلاح کی طرف توجہ کی ضرورت ایک دوست نے ایک نہایت ہی اچھی بات کہی ہے اور وہ یہ کہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے انفرادی رنگ میں جماعتوں کی اصلاح کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔میں خود مدت سے اس بات کی طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ محکموں نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔تحریک جدید کا کام چونکہ براہ راست میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے میں اسی رنگ میں اس کے کام کی نگرانی کرتا ہوں اور جہاں نقص واقع ہو اپنی توجہ کا بیشتر حصہ اس کی طرف صرف کر کے اسے دور کرنے کی کوشش کیا کرتا ہوں۔مثلاً ہم نے ٹریکٹ بھیجوانے ہوں تو جن جماعتوں میں ٹریکٹوں کی زیادہ ضرورت ہوگی وہاں زیادہ ٹریکٹ بھیجوا دئیے جائیں گے اور جنہیں کم ضرورت ہوگی انہیں کم بھجوا دیئے جائیں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ سب کو یکساں بھجوا دئیے جائیں۔اسی طرح اور امور میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کون سی جماعت کمزور ہے۔پھر جو جماعت کمزور ہو، اُس کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر نظارتوں نے اس طرف ابھی تک توجہ نہیں کی۔مثلاً انسپکٹروں کا جماعتوں میں جو دورہ ہوتا ہے اس کے متعلق اخبار میں اعلان کر دینا کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کون سی جماعت تربیت کی زیادہ محتاج ہے اور کونسی جماعت تربیت کی زیادہ محتاج نہیں۔میری کوٹھی کے قریب باغ ہے۔میں جب اس