خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 550

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے اور اگر اس قسم کے فیصلوں کے نتیجہ میں بعض لوگوں کے دلوں میں شکوہ پیدا ہو تو یہ بالکل جائز اور درست ہوگا۔اس کے بعد میں اول تو بجٹ کے متعلق جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جس طرح بھی ہو سکے اب انہیں اس بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اب کے یہ ایک مشکل پیش آگئی ہے کہ بعض اخراجات بجٹ میں درج ہونے سے رہ گئے ہیں۔میں عام طور پر مجوزہ بجٹ سے اخراجات کو کم کر کے اسے منظور کیا کرتا ہوں مگر اس دفعہ غالباً مزید کمی کی گنجائش نہیں ہوگی۔۱۵ ہزار کی کٹوتی پہلے ہی ہو چکی ہے اور تین ہزار کی زیادتی اس میں درج ہی نہیں ہو سکی۔یہ تین ہزار کی رقم بعض اور مدات سے تخفیف میں لانی پڑے گی۔بہر حال یہ کام تو اب ہوگا ہی۔میں جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں تک ہو سکے اس بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔بعض دوستوں کو اس بات کا شکوہ ہوگا کہ اُن کی جماعتوں کا نام مقررہ بجٹ پورا نہ کرنے والوں کی فہرست میں آگیا حالانکہ وہ خود اپنا ذاتی چندہ پورا ادا کر چکے ہیں۔ایسے لوگ اپنے دلوں میں خیال کرتے ہوں گے کہ یہ عجیب بات ہوئی کہ انہوں نے اپنا چندہ تو ادا کر دیا مگر وہ چونکہ ایسی جماعتوں کے نمائندے بن کر آگئے جو نادہندہ تھیں یا جنہوں نے چندہ کی ادائیگی میں سُستی سے کام لیا اس لئے اس ملامت سے ان کو بھی حصہ لینا پڑا۔یہ بات بظاہر ایسی ہی نظر آتی ہے جیسے کسی مزدور کو سارا دن کام کرنے کے بعد کچھ نہ دیا جائے بلکہ الٹا اُس پر ناراضگی کا اظہار کیا جائے کہ اس نے فلاں فلاں کام درست طور پر نہیں کیا۔اجتماعی کاموں کی پوزیشن حقیقت یہ ہے کہ بعض کام اجتماعی ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ اُسی وقت خوشکن کہلا سکتا ہے جب اجتماعی رنگ میں خوشکن نتیجہ نکلے۔چنانچہ دیکھ لو فنج اعوج کا زمانہ جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظلمت اور کفر کا زمانہ قرار دیا ہے۔اس زمانہ میں سید احمد صاحب بریلوی اور سید اسمعیل صاحب شہید اور دوسرے کئی صلحاء اور اولیاء پیدا ہوئے ہیں، ان کے واقعات پڑھ کر انسان کا ایمان تازہ ہوتا اور اس کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت پیدا ہوتی ہے۔مگر با وجود اس کے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چونکہ اُس زمانہ میں بدیاں اپنے کمال پر تھیں اور