خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 549

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء حاصل ہے کہ اس کے ہیڈ ماسٹر صدر انجمن احمدیہ کے ممبران میں شامل ہیں اس لئے مدرسہ احمدیہ کے متعلق اگر صدر انجمن احمدیہ میں کوئی بات طے ہو تو اُس کا انہیں علم ہو سکتا ہے لیکن باقی ماتحت محکموں کو یہ بات حاصل نہیں کہ ان کے افسر صدرانجمن احمدیہ کے ممبر ہوں۔مثلاً تعلیم الاسلام ہائی سکول ہے یہ اپنی ذات میں ایک مستقل محکمہ ہے اور ہیڈ ماسٹر تمام امور کے متعلق جوابدہ سمجھا جاتا ہے۔ناظر صرف ایک سرسری نگرانی کرتا ہے ورنہ اصل نگرانی ہیڈ ماسٹر کے ہی سپرد ہوتی ہے۔اب اگر اس محکمہ میں خود بخود کوئی تخفیف کر دی جائے اور مدرسہ ہائی کے ہیڈ ماسٹر سے پوچھا نہ جائے تو یہ امر بالکل غیر مناسب ہوگا۔اسی طرح جامعہ احمدیہ، نصرت گرلز سکول، شفا خانہ اور بعض تجارتی صیغہ جات سب ایسے ہیں کہ ان کے ذمہ دار افسر مقرر ہیں اور وہ اپنے محکمہ کی خرابی کی وجہ سے الزام کے نیچے آتے ہیں۔پس ایسے امور میں اُن کو موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کے مفاد کو واضح کریں۔اسی طرح بیرونی ممالک میں جس قدر تبلیغی مشن قائم ہیں سب اپنے اپنے دائرہ میں مستقل کام کر رہے ہیں اور مبلغین اپنے کام کے آپ ذمہ دار ہیں۔گو کام وہ ہماری پالیسی کے ماتحت کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ ہم صرف انہیں روٹی کھانے کے لئے بھجوا دیتے ہیں۔یہی کام دُنیوی حکومتیں کرتی ہیں جب وہ کسی جگہ اپنے جرنیل کو بھجواتی ہیں تو اُسے اپنے دائرہ عمل میں آزاد رکھتی ہیں اور اگر کوئی حکومت کسی جرنیل کو اتنی آزادی بھی نہ دے اور اُس کی ہر نقل و حرکت اپنے حکم کے ماتحت رکھے، وہ کہیں جانا چاہے تو اُسے جانے نہ دے، حملہ کرنا چاہے تو اسے حملہ نہ کرنے دے تو کوئی شریف اور عقلمند جرنیل ایسے عہدہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔پس گو حکومت پالیسی اپنی رکھے مگر اُسے جرنیل کو یہ موقع دینا پڑے گا کہ وہ اپنے کام کو جس رنگ میں اچھی طرح سرانجام دے سکتا ہے اس رنگ میں سرانجام دے۔اسی طرح جو محکمے اپنی ذات میں مستقل ہیں اور ان کے ذمہ دار افسر مقرر ہیں ان کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ افسروں کی رائے بھی دریافت کرے اور ان کے دلائل کو معلوم کرنے کے بعد جو فیصلہ مناسب سمجھے کرے۔جیسے قاضی کا حق ہے کہ وہ فریقین کی باتیں سُننے کے بعد کہہ دے کہ فلاں کا حق ہے اور فلاں کا نہیں۔مگر اُس کو کون قاضی کہے گا جو یکطرفہ فیصلہ کر دے۔پس ولایت کے مشن کے متعلق ناظروں کا یہ یکطرفہ فیصلہ نہایت ہی