خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 40
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء تا کہ ہم انہیں وہی کہ سکیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تھا۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہم اپنے گھروں پر تبلیغ کر لیتے ہیں اس لئے ہمیں اوقات وقف کرنے کی ضرورت نہیں۔جب ایک نظام مقرر کیا گیا ہے اور تبلیغی جہاد جماعتی رنگ میں شروع کیا گیا ہے تو ہر شخص کو اس میں شریک ہونا چاہئے تا کہ اُسے یادر ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا جائے گا تو اسے پورا کر سکے گا۔تیسری بات یہ ہے کہ نوجوان خدمت دین کیلئے اپنی زندگیاں وقف کریں مخصوصا اور دوسرے لوگ عموما اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں اور غیر ممالک میں جا کر تبلیغ کریں اس وقت تک کئی نوجوان جا چکے ہیں اور کئی جانے والے ہیں سٹریٹ سیٹلمنٹ لے میں جو مبلغ گیا ہے وہ مدرسہ احمدیہ کا مولوی فاضل ہے۔پہلے اس کے متعلق مجھ پر اثر تھا کہ اس نے چستی سے کام نہیں کیا مگر اب معلوم ہوا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اچھا اثر پیدا کر رہا اور اپنے لئے مفید ماحول تیار کر رہا تھا۔ہم اُسے کوئی خرچ نہیں دیتے ، وہ پھیری کر کے کماتا ہے اور تبلیغ کرتا ہے اور بھی کئی نوجوان جا رہے ہیں۔چین میں ایک مبلغ جا چکا ہے اور دوسرا جانے کے لئے تیار ہے۔آسام کو جانے کے لئے ایک نوجوان تیار ہے۔سپین جا چکا ہے۔ساؤتھ افریقہ جاچکا ہے۔ہنگری جا چکا ہے۔البانیہ جانے کے لئے تیار ہے۔یہ سب زندگی وقف کنندگان ہیں۔ان کے علاوہ آٹھ دس نوجوان اپنے طور پر مختلف علاقوں کو روانہ ہو چکے ہیں۔ان میں سے بعض یہاں سے کلکتہ تک پیدل گئے ہیں اور پھیری کر کے اپنا زادِراہ پیدا کرتے چلے گئے ہیں۔یہ شاندار کام جو انہوں نے کیا اور بھی کر سکتے ہیں اور جماعت کی ترقی میں مُحمد ہو سکتے ہیں۔بے شک ہمیں دین کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور پیش آتی رہے گی لیکن جہاں تک تبلیغ کا کام ہے وہ روپیہ سے نہیں چل سکتا بلکہ قربانی اور ایثار سے چل سکتا ہے اس کے لئے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں اور اس میں جماعت اس طرح تعاون کرے کہ ہر با اثر لوگ اپنی اپنی جماعتوں میں اس پر تقریریں کریں اور نو جوانوں میں تحریک کریں کہ وہ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں۔میں نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ ایک لڑکا میرا خطبہ سُن کر افغانستان چلا گیا جہاں اسے قید میں ڈال دیا گیا اور وہ قید خانے