خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 528
خطابات شوری جلد دوم ۵۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہیں۔اسی طرح ہماری آج کی باتوں سے بھی لوگ بڑے بڑے مسائل نکالیں گے۔میں نے سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک کتاب لکھی ہے۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو پہلے تو خلافت سے برگشتہ ہو گئے تھے مگر بعد میں اُن کو تو بہ کی توفیق مل گئی تھی وہ کہا کرتے تھے کہ میں تو اس کتاب کو معجزہ سمجھتا ہوں کہ اس میں بخاری کی احادیث سے سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔تو زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے بھی صحیح نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں اور اس لئے آج ہماری جماعت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی فیصلہ کرتے وقت پوری طرح غور و حوض کر لیں اور تقویٰ سے کام لیں۔اصل چیز تقومی ہی ہے انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی بات پوری ہو، میری خواہ ہو یا نہ ہو۔میری طبیعت پر اس بات کا بہت بڑا اثر ہے کہ یہ کام کا وقت ہے مگر ہماری طرف سے عملی قربانی بہت کم ہے باتیں بنانے کا وقت نہیں۔یہی تفسیر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔سالہا سال سے دوست تفسیر نہ ہونے کی وجہ سے اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے رہتے تھے مگر اب چھپی ہے تو اس کی خریداری سے سخت غفلت برتی گئی ہے اور مجھے حیرت ہے کہ اس کے خریداروں میں خاصی تعداد میں غیر احمدی اور ہندو ہیں اور بعض دوست جنہوں نے پہلے خریداری کے لئے لکھا بھی تھا اب بالکل چپ ہو گئے ہیں۔تین ہزار شائع ہوئی تھی۔چاہئے تو یہ تھا کہ کم سے کم ۲۹۰۰ احمدی خرید تے اور ایک سو دوسری قو میں۔مگر واقعہ یہ ہے کہ ۷۔۸ کو غیر احمدیوں نے خریدی ہے اور بیس بائیس سو احمدیوں نے خریدی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی جماعت کو بہت بڑی تربیت کی ضرورت ہے یہ بہت بڑا نقص ہے۔امراء اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ قرآن کریم کی محبت جماعت میں قائم کریں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک احمدی نے کہا کہ اس حصہ کو خرید کر کیا کرنا ہے کیا معلوم باقی پانچ حصے چھپیں گے یا نہیں حالانکہ دین کی ایک بات بھی بہت بڑی قیمت رکھتی ہے۔فیصلے کرتے وقت تقوی کو مدنظر رکھیں امام بخاری نے حدیث کی کتاب لکھی تو ایک ایک حدیث کے لئے ہزار ہزار میل کا سفر کیا اور اپنی زندگی کے تمیں سال احادیث کے جمع کرنے میں صرف کر دیے۔وہ بخارا