خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 517

۵۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم اور اگر تبع تابعین میں یہ احساس ہو کہ تبع تبع تابعین ایمان کے لحاظ سے ہمارے درجہ پر ہوں ، اسی طرح ہر باپ کو یہ احساس ہو کہ میری اولا د کم سے کم میرے جتنا دین جانتی ہو اور اُس کے اندر کم سے کم اتناہی ایمان ہو جتنا میرے اندر ہے تو بتاؤ وہ قوم کس طرح تباہ ہوسکتی ہے۔ساری تباہی اور بربادی اسی لئے ہوتی ہے کہ تو مسلم یا تو احمدی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں سلسلہ کی وہ عظمت نہیں ہوتی جو پہلوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔اس لئے جماعت کا قدم تنزل کی طرف اُٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر ان کے باپ دادا تو قربانیاں کرتے ہیں، ماریں کھاتے ہیں، بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں جس کی وجہ سے دین کی اہمیت اُن پر روشن ہوتی ہے اور وہ دعاؤں سے کام لیتے اور سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ رکھتے ہیں مگر یہ نئی پود جب کھڑی ہوتی ہے تو اس کے چاروں طرف اپنے ہی عزیز اور رشتہ دار ہوتے ہیں۔انہیں دشمنوں کے ہاتھوں سے ماریں کھانے اور دین کے لئے مصائب اور تکالیف برداشت کرنے کے مواقع میسر نہیں آتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ دعاؤں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور نہ ان میں صبر کی عادت پیدا ہوتی ہے، نہ ان کا اخلاص ترقی کرتا ہے اور نہ ان کی جماعت سے وابستگی پختہ ہوتی ہے اس لئے ان کو سمجھانے ، ان کی تربیت کرنے اور ان کو دین سے آگاہ کرنے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔نو مبائعین کا فرض ہیں یہ کام ہمیشہ جاری رہے گا اور درحقیقت اس کے بغیر کوئی قوم حقیقی معنوں میں زندہ نہیں کہلا سکتی۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ نئے آنے والوں کو خود بخود دین سیکھنے کی جدو جہد نہیں کرنی چاہئے۔بے شک پہلوں کا بھی فرض ہے کہ وہ نئے لوگوں کو سکھائیں مگر نئے شامل ہونے والوں کا یہ ذاتی طور پر بھی فرض ہے کہ وہ کمی کو پورا کریں اور پہلے لوگوں کی اچھی باتوں کی تقلید کریں۔مثلاً اسی مجلس میں کئی دوست ایسے ہوں گے جو اس سے پہلے کسی مجلس شوری میں شامل نہیں ہوئے ہوں گے۔پس ان کو چاہئے کہ وہ اُن لوگوں کو دیکھیں جو اُن سے پہلے اس مجلس میں شامل رہ چکے ہیں اور جس رنگ میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اُسی رنگ میں خود بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کریں۔اور جس صبر تحمل اور شائستگی سے وہ گفتگو کر میں اُسی صبر تحمل اور شائستگی سے خود بھی گفتگو کریں۔یہ ہدایت وہ ہے جو قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ