خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 516
خطابات شوری جلد دوم صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - ۵۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء پس یہ دعا قومی ترقی کے لئے ایک نہایت ہی قومی ترقی کے لئے دُعا ضروری ہے ضروری چیز ہے اور جب بھی ایک مسلمان یہ دعا مانگتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو ہر دفعہ اُس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ صرف موجودہ لوگوں کی تربیت ہی کافی نہیں بلکہ ہر نئے شامل ہونے والے آدمی کی تربیت اور تعلیم کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کو بھی ہدایت کی راہوں پر چلاؤں۔پس کیسا جھوٹا ہے وہ مسلمان جو دن رات میں چالیس پچاس دفعہ یہ کہتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اور پھر وہ سمجھتا ہے کہ مجھے تو ہدایت مل چکی ہے کسی دوسرے کو ہدایت پر لانے کی مجھے کیا ضرورت ہے۔اور وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ دعا تو اسی لئے اُس سے منگوائی گئی تھی تا کہ وہ یہ سمجھے کہ جن لوگوں کو ابھی تک ہدایت نہیں ملی اُن کو ہدایت پر لانا بھی اس کا فرض ہے۔پس علاوہ ان معنوں کے جو ہماری جماعت میں اس آیت کے کئے جاتے ہیں اور جو درست ہیں اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔جن لوگوں کو صراط مستقیم مل چکا ہو اُن کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو صراط مستقیم دکھا ئیں اور جو تربیت اور تعلیم سے محروم ہیں ان کی اسلامی رنگ میں تربیت کریں اور انہیں اسلام کے احکام کا علم دیں۔تربیت کی اہمیت کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیشہ نی نسلیں پیدا ہوتی رہتی ہیں جو تربیت کی محتاج ہوتی ہیں اور پھر تبلیغی جماعتوں میں یوں بھی نئے نئے لوگ شامل ہوتے رہتے ہیں۔اسی لئے خدا نے ہمیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صراط الذین انعمت عَلَيْهِمْ کی دعا سکھلائی ہے اور بتایا ہے کہ قوم کے تمام افراد کو ہمیشہ یہ امر اپنے مدنظر رکھنا چاہئے کہ وہ نئے داخل ہونے والوں کو اسی معیار ایمان پر لے آئیں جس پر وہ خود ہوں۔اسی طرح جو نئی نسل پیدا ہوا سے بھی وہ اسی معیار ایمان پر لے آئیں جس پر وہ خود ہوں۔اگر اس نکتہ کو ہم سمجھ لیں تو یقیناً ہماری ترقی کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو جائے۔اگر صحابہ میں یہ احساس ہو کہ تابعین ایمان کے لحاظ سے ہمارے درجہ پر ہوں ، اگر تابعین میں یہ احساس ہو کہ تبع تابعین ایمان کے لحاظ سے ہمارے درجہ پر ہوں