خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 38
خطابات شوری جلد دوم ۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء رہے ہیں۔کل کی خبر ہے کہ روس اور جاپان میں جنگ کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ادھر انگریزوں میں ایسا ہی ہو رہا ہے اور یہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ پچھلے سال جو تغیرات رونما ہوئے ، اُس کی مثال سابقہ سالوں میں نہیں مل سکتی۔لوگ اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ جنگ عظیم کے ۱۷ سال بعد دنیا کی حالت اتنی خطرناک نہیں ہوئی تھی جتنی ۱۹۳۵ء میں ہوگئی اور ہوتی چلی جا رہی ہے۔یہ تغیرات یکدم شروع ہو گئے ۳۴ ۱۹۳۳ء کے اخبارات کے فائل اُٹھا کر دیکھ لو۔اُن میں لکھا ہوگا کہ اب امن کا دور دورہ ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔مگر ۳۶۔۱۹۳۵ء میں ایسی حالت ہوگئی ہے کہ ہر شخص جنگ کو اپنے دروازہ پر دیکھ رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور انکسار کے ساتھ گر و اور دعائیں کرو کیونکہ دعائیں بہت کچھ کر سکتی ہیں۔اس طرح بھی مجھ سے تعاون کیا جائے۔ہر جماعت کے لوگ ایک وقت مقرر کر کے اور مل کر دعائیں کریں یا بعض نمازوں کے وقت مل کر دعائیں کریں اور اس طرح کوشش کریں کہ یہ دعا ئیں اور روزے عرش الہی کو ہلا دیں تا کہ عظیم الشان تغییر پیدا ہو۔پھر یہ بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہمارے اندر بھی غیر معمولی تغییر پیدا کرے تا کہ دنیا میں جو جگہ خالی ہو اُس کے لینے کے ہم اہل ثابت ہوں۔ابھی ہمارے اندر اس قسم کی اہلیت کم ہے اور بہت اصلاح اور بڑے تغیر کی ضرورت ہے۔پس جماعت کو چاہئے کہ اس تعاون کو اس درجہ پر پہنچا دے کہ وہ اس مثل کے مطابق نہ ہو کہ مُردہ بدست زندہ بلکہ زندہ بدست زندہ کے مطابق ہو۔تمام افرادِ جماعت تبلیغ میں حصہ لیں دوسری بات یہ ہے کہ نقطہ نگاہ کی اصلاح کے بعد بیرونی مقابلہ کے لئے تیاری کریں اس کے لئے تمام افراد جماعت کو تبلیغ میں حصہ لینا چاہئے۔اگر آج ہم سب یہ فرض ادا کر رہے ہوتے تو پھر الگ مبلغوں کی کوئی ضرورت نہ تھی اور جب تک جماعت یہ خیال اپنے دل سے نکال نہیں دیتی کہ تبلیغ کرنا مبلغین کا کام ہے افراد کا کام نہیں اُس وقت تک کامیابی نہیں ہوسکتی۔اس کے لئے میں نے یہ تحریک کی ہے کہ ہر احمدی زندگی کا کچھ حصہ اس کام کے لئے وقف کر دے تاکہ اگر سارے سال میں تبلیغ کرنے میں غفلت ہوگئی ہو تو اس عرصہ میں اس