خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 514

خطابات شوری جلد دوم ۵۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء بھی بجائے اس کے کہ اپنی جماعت میں سے کسی کو نمائندہ بنا کر بھیجیں قادیان کے افراد کو ہی اپنا نمائندہ سمجھ لیتے ہیں۔مجلس شورای کی اہمیت اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کے اندر ابھی تک یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ یہ مجلس شوریٰ کتنی اہم ہے اور دُنیا کی آئندہ ترقی کا انحصار اس پر کس حد تک ہے۔شروع شروع میں تو چونکہ جماعت کے لوگوں کو اس کی اہمیت کا بالکل ہی علم نہیں تھا، اس لئے کئی سال تک تو یہی خیال کیا جاتا تھا کہ ہمارے مشورہ دینے کا کیا فائدہ ہے۔فیصلہ تو اُنہوں نے وہی کرنا ہے جو اُن کا جی چاہے گا۔ہمارے ہاں چونکہ آخری فیصلہ خلیفہ کا ہوتا ہے اس لئے وہ خیال کرتے تھے کہ ہمارا کچھ کہنا یا نہ کہنا برابر ہے جب اُنہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے تو وہ جو جی چاہے فیصلہ کر لیں۔مگر آہستہ آہستہ اب اس خیال کا زور ٹوٹ گیا ہے گوکسی قدر اب بھی پایا جاتا ہے۔پہلے بالعموم یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جو فیصلہ کرنا ہے اُنہوں نے ہی کرنا ہے اس لئے ہمارے مشورہ کی کوئی ضرورت نہیں۔مگر اب ہمارے دوست اس بات کو سمجھنے لگ گئے ہیں کہ باوجود اس کے کہ خلیفہ وقت کا فیصلہ آخری ہوتا ہے پھر بھی مجلس شوری بہت اہمیت رکھتی ہے۔اسی طرح اور کئی نقائص ہیں جو آہستہ آہستہ دُور ہو رہے ہیں۔گواب بھی بعض دفعہ دوستوں کو یہ دورہ ہو جاتا ہے کہ وہ بلا وجہ بحث کو لمبا کر دیتے ہیں مگر جو دوست ہر سال اس مجلس میں شامل ہوتے ہیں وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ اب اس نقص میں بھی کمی ہو رہی ہے اور زیادہ تر دوست اُسی وقت بولتے ہیں جب اُن کا بولنا مفید ہوتا ہے۔اسی طرح تجربہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اب دوستوں کی رائے زیادہ صائب ہوتی ہے اور زیادہ غور اور زیادہ فکر سے تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔اسی طرح جو دوست بولنا چاہتے ہیں ، وہ محل اور موقع کے مناسب حال بولتے ہیں۔غرض میں دیکھتا ہوں کہ مجلس شوری کے کاموں میں برابر ترقی ہوتی جا رہی ہے اور دوستوں پر اس کی اہمیت زیادہ سے زیادہ روشن ہو رہی ہے۔اسی طرح سلسلہ کے کاموں میں حصہ لینے کا طریق بھی انہیں معلوم ہو رہا ہے۔غلطیاں اب بھی ہوتی ہیں مگر بہت کم اور یہ غلطیاں بھی بعض لوگ اپنی طبیعت کی اُفتاد کی وجہ سے کرتے ہیں اور بعض سے غلطیاں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ وہ بھول جاتے ہیں اور بعض دفعہ چونکہ جماعت