خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 507
خطابات شوری جلد دوم ۵۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء بہت کم مل سکتے ہیں۔یہ وہ لوگ تھے جن کی خدمات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھیں۔جن کی قربانیاں ہر لمحہ اور ہر آن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ہوا کرتی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ لوگ ایسی محبت رکھتے تھے کہ جس کی نظیر کسی ڈ نیوی رشتے میں نہیں مل سکتی۔پس اگر دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے ، اگر احساسات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے خیالات کی پاس داری زیادہ ہونی چاہئے تھی اور ہماری نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کم ہونی چاہئے تھی لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر محدود محبت نے (جہاں تک انسانی محبت غیر محدود ہوسکتی ہے ) یہ پسند نہ کیا کہ وہ تمہاری ہمتوں کو پست ہونے دیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے یہ بھی پسند نہ کیا کہ وہ درمیانی اُمت کی ہمت کو پست ہونے دیں۔چنانچہ ایک مجلس میں آپ نے بعد میں آنے والے لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا کہ میرے بھائی جو میرے بعد آنے والے ہیں وہ ایسے ہوں گے۔صحابہ کو یہ سن کر رشک پیدا ہوگا اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ بھائی ہوئے ہم نہ ہوئے۔آپ نے فرمایا تم صحابہ ہو اور وہ میرے بھائی ہیں۔تمہیں کیا یہ کم نعمت حاصل ہے کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو اور میرے ساتھ رہ کر خدمات دینیہ بجالا رہے ہو؟ وہ لوگ جو مجھے نہیں دیکھیں گے اور وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے مجھے کوئی لفظ ان کے متعلق بھی تو بولنے دو تا انہیں بھی تسلی ہو اور ان کے حوصلے بھی بلند ہوں چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے حوصلے کس قدر بڑھا دیئے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا میری امت کا پہلا حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ بہتر ہے۔پس تمہارے دلوں میں یہ کبھی خیال نہ آئے جیسا کہ پیغامی یا ملا طبع لوگ کہا کرتے ہیں کہ تم صحابہ سے نہیں بڑھ سکتے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری پیٹھوں پر تھپکی دی ہے اور تمہیں محبت اور پیار سے کہا ہے کہ اے میرے عزیز و! اور اے میری جماعت کے لوگو! تم پست ہمت مت بنو۔لوگ تمہارے لئے مختلف قسم کے جیل خانے بنا ئیں گے اور کئی قسم کے پنجرے تیار کریں گے جن میں تم کو محبوس کرنے کی کوشش کریں گے مگر میں ان پنجروں کی تیلیوں کو معنوی طور پر ابھی سے توڑ دیتا ہوں اور ان کے دروازوں کو کھول دیتا ہوں۔آؤ اور باہر نکلو اور آسمان روحانی کی فضا کی طرف پرواز کرو اور یہ سمجھ لو کہ تم جتنا اونچا چاہو