خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 506
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء لئے جب مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو گھر گھر کہرام مچ گیا اور شہداء کے بیوی بچوں اور رشتہ داروں نے رونا شروع کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ مین نہیں ڈالتے تھے مگر ابھی تک مین ڈالنے سے اسلام نے پوری طرح رو کا بھی نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس دن اپنے گھر سے کسی کام کو نکلے مگر آپ جس گلی میں سے گزرے اتفاقاً اس میں کئی شہادتیں ہوئی تھیں اور ہر گھر میں سے رونے کی آواز آ رہی تھی مگر جب آپ حضرت جعفر کے مکان کے پاس سے گزرے تو وہ چونکہ مہاجر تھے اور اُن کا کوئی رشتہ دار مدینہ میں موجود نہیں تھا اس لئے جعفر کے گھر سے کسی کے رونے کی آواز نہ آئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اظہار محبت کے لئے کہا کہ جعفر کے گھر سے تو رونے کی کوئی آواز نہیں آرہی۔صحابہ نے جب یہ فقرہ سنا تو انہوں نے فوراً اپنے اپنے گھروں میں جا کر عورتوں کو کہہ دیا کہ جاؤ اور جعفر کے گھر روؤ۔چنانچہ ساری عورتیں اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر جعفر کے گھر اکٹھی ہو گئیں اور ان سب نے مل کر رونا شروع کر دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رونے کی آواز پہنچی تو آپ نے فرمایا یہ کیا ہوا؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے جو فر مایا تھا کہ جعفر پر کوئی رونے والا نہیں ہم نے اپنی عورتوں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں پر نہ روئیں بلکہ جائیں اور جعفر کے گھر روئیں یا در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا نہیں تھا کہ عورتیں جعفر کے گھر اکٹھی ہو کر رونا شروع کر دیں بلکہ آپ یہ بتانا چاہتے تھے کہ جب میرا ایک رشتہ دار بھی شہید ہوا ہے اور ہم سب نے اس پر صبر سے کام لیا ہے تو تمہیں بھی صبر کرنا چاہئے مگر صحابہ کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو محبت تھی اس نے انہیں یہ سوچنے کا موقع نہیں دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا چاہتے ہیں بلکہ اُنہوں نے فوراً عورتوں سے کہہ دیا کہ اپنے غم کو بھلا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غم میں شریک ہو جاؤ۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسا عشق تھا کہ وہ یہ فقرہ سن کر ہی کہ جعفر کے گھر سے تو رونے کی کوئی آواز نہیں آرہی یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کی شہادت پر رو کر غلطی کی ، اصل غم تو وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا۔بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر جذبات کے اظہار کے لئے اس سے بہتر واقعات