خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 500

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء اور کہیں گے کہ ہم جس طرح اس جہان میں کام کریں گے اُسی طرح اگلے جہان میں ہمیں اس کا بدلہ ملے گا۔اگر ہم اس جہان میں اپنے اعمال میں مٹھاس بڑھائیں گے تو جنتی پھلوں کی مٹھاس بھی ہمارے لئے بڑھ جائے گی اور اگر ہم ان اعمال میں کسی قدر کڑواہٹ داخل کر لیں گے تو اسی نسبت سے جنت کے پھلوں میں بھی کڑواہٹ آ جائے گی۔تو اصلاح اعمال کے لحاظ سے یہ آیت ہمارے لئے ایک بڑا بھاری محرک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان معنوں کو ہمارے سامنے لا کر عمل کی دنیا کو ہی بدل دیا ہے بلکہ اگر ہم زیادہ غور کریں تو عمل کی دنیا میں ہماری زمین اور آسمان بالکل نیا بن جاتا ہے کیونکہ ہر کام کرتے وقت یہ امر ہمارے مدنظر ہوگا کہ اسی عمل نے اگلے جہان میں متشکل ہو کر ہمارے سامنے آنا ہے۔یہی نمازیں ہیں جو ہمارے سامنے آئیں گی ، یہی روزے ہیں جو ہمارے سامنے آئیں گے، یہی حج ہے جو ہمارے سامنے آئے گا اور یہی چندے ہیں جو ہمارے سامنے آئیں گے۔اگر انسان یہ خیال نہ کرے بلکہ یہ خیال کرے کہ مجموعی طور پر نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کا بدلہ مل جائے گا تو یقیناً اس کی طبیعت پر اتنا اثر نہیں ہوسکتا جتنا اثر اس امر سے ہو سکتا ہے کہ یہی اعمال اگلے جہان میں متشکل کر کے تمہارے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے۔اگر یہ صورت نہ ہوتی اور کہا جاتا کہ مثلاً تمام عبادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجموعی طور پر اس قدر انعام دیا جائے گا تو انسان خیال کر لیتا ہے کہ میرے لئے جُزوی طور پر عمل کی نگہداشت ضروری نہیں لیکن موجودہ صورت میں ہر انسان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ اپنے عمل کا جائزہ لے اور ہر وقت جائزہ لے۔کیونکہ یہی اعمال ہیں جنہوں نے اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھے پھل ملیں گے اور اگر اعمال میں نقص ہوگا تو ان پھلوں میں بھی ویسا ہی نقص ہوگا جو اس کو اگلے جہان میں ملیں گے۔پس ہمیں اپنی اصلاح کر کے اپنے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا کرنا چاہئے اور ہر عمل کے کرتے وقت ہمیں اس نکتہ کو مدنظر رکھنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا قدم آگے کی طرف بڑھے پیچھے کی طرف نہ ہے۔میری زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک جدید کے اس سال کے وعدے پہلے سالوں کی نسبت کم رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جو بلی کے شور اور نمائش کی وجہ سے