خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 499

۴۹۹ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء درجات کی بلندی اور کمی کا احساس ضرور ہو گا اسی لئے جنتی کچھ عرصہ کے بعد زیادہ اعلیٰ مرتبہ کے حصول کے خواہش کریں گے اور خدا اپنے فضل سے وہ انہیں دے دے گا لیکن بہر حال ان پھلوں میں انہیں ویسا ہی مزہ معلوم ہوگا جیسا مزہ انہیں دنیا میں روحانی عبادات کے بجالاتے وقت حاصل ہوا۔اگر انہوں نے نماز روزوں کو عمدگی سے ادا کیا ہوگا تو ان کا پھل انہیں پوری لذت دے گا اور اگر انہوں نے بے دلی کے ساتھ ان کو ادا کیا ہوگا تو جنت کے پھلوں میں بھی انہیں اعلیٰ مدارج کے لوگوں سے کم مزہ آئے گا۔یہ نکتہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ایسا عظیم الشان ہے کہ اس سے اعمال میں ایک تغیر عظیم پیدا ہو جاتا ہے۔ورنہ یہ معنے کہ جیسے دنیا میں آم ملتے ہیں اسی قسم کے آم جنتیوں کو ملیں گے یا متواتر انہیں ایک ہی قسم کے پھل کھانے کے لئے دیئے جائیں گے ایسے ہیں کہ جن کو عقل تسلیم نہیں کرتی اور جو یوں بھی اسلام اور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہیں۔عمل کا وسیع میدان پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان معنوں نے ہمارے لئے عمل کا ایک وسیع میدان کھول دیا ہے۔ان معنوں کو سمجھ لینے کے بعد جب ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں گے فوراً ہمیں خیال آئے گا کہ ہم نماز ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ، خشوع و خضوع سے پڑھیں، رقت اور سوز اپنے اندر پیدا کریں تا جب اس کی جزا ہمیں ملے تو ہم خوش ہوں، ایسا نہ ہو کہ وہ پھل کھا کر ہمیں کوئی لذت نہ آئے۔اسی طرح جب ہم چندہ دینے لگیں گے فوراً ہمیں یہ خیال آئے گا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے بشاشت کے ساتھ چندہ دیں ورنہ کسیلے، بدمزہ اور گل گھوٹو بیروں کی طرح ہمیں اس کا بدلہ ملے گا۔تو ان معنوں سے ہماری نیتوں اور ہمارے اعمال میں ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اور یہ آیت ایک ایسا زبردست محرک ہے جو ہر وقت ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح پر آمادہ رکھ سکتا ہے۔ہم نمازیں پڑھنے لگیں گے تو فوراً یہ آیت سامنے آ جائے گی، روزہ رکھنے لگیں گے تو یہ آیت سامنے آ جائے گی ، چندہ دینے لگیں گے تو یہ آیت سامنے آجائے گی ، زکوۃ دینے لگیں گے تو یہ آیت سامنے آ جائے گی ، حج کرنے لگیں گے تو یہ آیت سامنے آ جائے گی اور ہم فورا سنبھل جائیں گے