خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 490
خطابات شوری جلد دوم ۴۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء گے جو یہ کہیں گے کہ اس دُنیا میں ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے جن کا لازمی نتیجہ احمدیت کی ترقی تھی مگر اُن میں سے جو سمجھ دار لوگ ہوں گے وہ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ یہ کام خدا کا ہے اور اُسی نے یہ تغیر پیدا کیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کو ہی دیکھ لو، جب آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ میں تمام دُنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور یہ کہ ایک دن ایسا آئے گا جب کہ میری مخالفت کرنے والے مٹ جائیں گے اور میرا لایا ہوا دین تمام دُنیا میں پھیل جائے گا تو لوگ ہنستے تھے اور کہتے تھے یہ تو مجنونانہ دعویٰ ہے اس میں تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ مکہ کو فتح کر سکے ، جا یہ کہ سارے عالم پر اس کا قبضہ ہو جائے۔مگر جب مکہ ہی نہیں تمام عرب پر اور عرب ہی نہیں فلسطین پر بھی اور فلسطین ہی نہیں شام پر بھی اور شام ہی نہیں مصر پر بھی اور مصر ہی نہیں اناطولیہ پر بھی ، اور اناطولیہ ہی نہیں ایران پر بھی ، اور ایران ہی نہیں افغانستان اور چین اور دوسرے تمام ممالک پر آپ اور آپ کے خلفاء کا قبضہ ہو گیا اور لوگوں نے یہ انقلاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو آج یورپین مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ انقلاب کوئی غیر متوقع نہیں تھا۔اُس زمانہ میں ایسے سامان پیدا ہو رہے تھے جن کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ کسریٰ کی حکومت مٹ جائے ، قیصر کی حکومت تباہ ہو جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا تمام دنیا پر غلبہ ہو جائے۔مگر ہم کہتے ہیں اے احمقو! اور نادانو ! تمہیں آج یہ تغیرات کیوں نظر آ رہے ہیں۔جبکہ وہ لوگ جن کے زمانہ میں یہ تغیرات ہوئے ہنتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مکہ فتح کرنے کی تو طاقت نہیں رکھتا اور خوا ہیں یہ دیکھتا ہے کہ وہ سارے جہان کو فتح کرلے گا۔حقیقت یہ ہے۔خوئے بد را بهانه بسیار جس نے نہیں ماننا ہوتا وہ ہزار بہانے بنالیتا ہے اور جو ماننے والے ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہدایت پا جاتے ہیں۔اس وقت بھی دُنیا میں عظیم الشان تغیرات پیدا ہو رہے ہیں اور تغیرات یقیناً احمدیت کے لئے مفید ہیں۔آج ہماری جماعت میں سے جن لوگوں کو خدا تعالیٰ یہ توفیق دے گا وہ بچے طور پر اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دیں اور اپنے آپ کو ایک تیز تلوار بنا کر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیں۔ان