خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 489
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء باپ کے پاس آیا اور کہنے لگا معلوم ہوتا ہے سپاہی نے دھوکا کیا ہے اور جو اصل تلوار تھی وہ چھپا کر اُس کی بجائے کوئی اور تلوار دے دی ہے کیونکہ اُس تلوار سے تو گھوڑے کے چاروں پیر کٹ جاتے تھے مگر اس تلوار سے اس کا ایک پیر بھی نہیں کٹا۔بادشاہ نے پھر اسے بلا کر ڈانٹا اور کہا کہ اصل تلوار کہاں چُھپا رکھی ہے، وہ نکال کر فوراً حاضر کرو۔سپاہی نے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت! تلوار تو وہی ہے مگر بات یہ ہے کہ صرف تلوار کام نہیں کیا کرتی بلکہ تلوار کو چلانے والے کی مہارت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔آپ کے صاحبزادہ کو یہ ہنر نہیں آتا مگر مجھے آتا ہے اور اگر آپ کو شبہ ہے تو ابھی کسی گھوڑے کو میرے سامنے لائے اور اسی تلوار سے میرے ہنر کا مشاہدہ کر لیجئے۔چنانچہ اُسی وقت ایک گھوڑا لایا گیا اور سپاہی نے اُسی تلوار کی ایک ایسی ضرب لگائی کہ اُس کے چاروں پاؤں یکدم کٹ گئے۔تو بعض دفعہ ہتھیار اچھا ہوتا ہے مگر چونکہ چلانے والا اپنے فن میں ماہر نہیں ہوتا اس لئے وہ ہتھیار صحیح طور پر کام نہیں دیتا۔اور چونکہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ انسانی ہاتھوں سے ہونے والا نہیں اس لئے ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو بہتر تلوار سے بہتر بنائیں اور پھر اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیں کہ سپردم بتو مایه خویش را کہ الہی ! جس حد تک اپنے خیالات کی اصلاح ممکن تھی ، جس حد تک اپنے افکار کی اصلاح ممکن تھی ، جس حد تک اپنے ارادوں میں بلندی اور پختگی پیدا کی جاسکتی تھی وہ ہم نے کر لی مگر اے ہمارے رب! ان تمام اصلاحوں کے باوجود ہم ایک بے جان لاشہ ہیں اور ہمارے اندر قطعاً یہ طاقت نہیں کہ ہم دُنیا میں کوئی تغیر پیدا کر سکیں اس لئے اے خدا! اب تیرے ہاتھ میں ہم اپنے آپ کو نفس بے جان کی طرح ڈال رہے ہیں، تو جہاں چاہے اسے ڈال دے اور جہاں چاہے اس کو پھینک دے یہ تیرا کام ہے اور تُو ہی کر سکتا ہے، ہم سے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اس طرح اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حوالے کر دیں تو یقیناً اس صورت میں تلوار ایسے تغیرات پیدا کرے گی کہ دُنیا حیران رہ جائے گی اور آئندہ آنے والی نسلیں حیرت سے کہیں گی کہ کتنی چھوٹی جماعت تھی جس نے قلیل ترین عرصہ میں ایسا عظیم الشان کام کر لیا۔بے شک جب ہمیں کامیابی حاصل ہو جائے گی اُس وقت بعض لوگ ایسے بھی ہوں