خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 478
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء لوگوں سے چندہ جمع کر لیتے ہیں مگر ہمارے ہاں چونکہ لوگوں کو اس کی عادت نہیں اس لئے ممکن ہے پہلے سال فائدہ نہ ہو لیکن اگر مستقل طور پر اس طریق کو جاری کر دیا جائے تو بعد میں فائدہ ہو سکتا ہے اور یا پھر مبلغین کو جماعتوں میں پھرایا جائے اور لوگوں سے پیسہ پیسہ، دو دو پیسے، آنہ آنہ یا دو دو آ نے وصول کئے جائیں۔اس طرح محکمہ کی کافی مدد ہوسکتی ہے اور وہ ٹریکٹوں وغیرہ کے اخراجات بہت حد تک پورے کر سکتا ہے۔چونکہ جن دوستوں نے اپنے نام لکھائے تھے ان سب کو بولنے کا موقع دیا جا چکا ہے مشتمل ہے، دوستوں اس لئے اب سب کمیٹی کا تجویز کردہ بجٹ آمد جو ۷٫۳۸,۳۶۹ روپے کے سامنے اس غرض کے لئے پیش کیا جاتا ہے کہ اسے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے۔دوست اس امر کو مدنظر رکھیں کہ جب وہ اس بجٹ کو منظور کریں گے تو اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد ہو جائے گی اور ان کا فرض ہوگا کہ وہ ہستی کو دور کریں اور خدا تعالیٰ کے دین کے لئے چُستی اور ہوشیاری سے کام لیں۔آج آپ لوگوں کی جو حالت ہے آپ اس کو نہ دیکھیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو وعدے دیئے گئے ہیں آپ اُن کو دیکھیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو پڑھا کریں تا آپ کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ آپ کے ذریعہ دنیا میں کیسا عظیم الشان تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے اور تا آپ کے حوصلے بلند ہوں اور آپ کو معلوم ہو کہ ایک بہت بڑا کام ہے جو آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔بہر حال جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ اس آمد کے بجٹ کو منظور کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۷۵ آراء شمار کی گئیں۔فرمایا۔چونکہ بجٹ کو منظور کرنے کے حق میں ۳۷۵ آراء ہیں اور مقابل میں کوئی ترمیم پیش نہیں۔اس لئے میں آمد کے اس بجٹ کو جو سب کمیٹی نے تجویز کیا ہے منظور کرتا ہوں۔“ اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کاروائی مکمل ہونے پر ۲۴ / مارچ ۱۹۴۰ء کو حضور نے اپنے الوداعی خطاب میں احباب جماعت کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: -