خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 464

خطابات شوری جلد دوم ۴۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہے مگر وہاں گزارہ بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔اگر بچے جوان ہو جائیں تو گزارہ میں کمی ہو جائے گی، بیوی فوت ہو جائے تو کمی ہو جائے گی ، اگر بچے زیادہ ہوتے جائیں تو گزارہ بھی زیادہ ہوتا جائے گا، اور اسی طرح جب بوڑھا ہو کر کوئی شخص کام ختم کر دے تو بھی گزارہ وہی رہے گا لیکن انجمن کے کارکنوں کے متعلق یہ اصول جاری کرتے وقت یہ سوچ لینا چاہئے کہ انجمن کا خزانہ اس بوجھ کو اُٹھا بھی سکتا ہے یا نہیں۔حالت یہ ہے کہ اس وقت قریباً دو لاکھ قرضہ ہے۔تجویز یہ تھی کہ جماعت اسے اتارنے کے لئے پہلے سال پندرہ ہزار، دوسرے سال ۳۵ ہزار اور تیسرے سال پچاس ہزار روپیہ بطور چندہ خاص ادا کرے مگر دو سال قریباً گزر گئے ہیں اور اس مد میں پانچ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اتنا بوجھ نا قابل برداشت ہے۔پنشن کا تغیر تو ضروری ہونا چاہئے ، یہ ایک ضروری بات ہے اور اسے کرنے میں اگر باقی کام فیل ہوتا ہے تو بے شک ہو، اگر جماعت بیٹھ جاتی ہے تو بیٹھ جائے ، یہ تبدیلی ضروری ہے۔لیکن بعض چیزیں ضروری نہیں ہوتیں بلکہ محض تحسین کے لئے ہوتی ہیں۔مومن کو ہمیشہ درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے۔یہ طریق درست نہیں کہ کبھی تو دوست یہ شور کرتے ہیں کہ کارکنوں کی تنخواہیں کا ٹو اور کبھی یہ کہ یہ بھی دے دو، وہ بھی دے دو۔پس ہر ترمیم پیش کرتے وقت اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔اگر دس سال تک پنشن ضروری قرار دے دی جائے اور کوئی کارکن آخری عمر میں شادی کرے اور دو ماہ کا بچہ چھوڑ کر فوت ہو جائے تو کیوں نہ ۲۲ سال تک یعنی جب تک کہ وہ بچہ جوان ہو جائے اُسے پنشن دی جائے۔کیا یہ دس سال دینے کی نسبت بہتر تجویز نہیں؟ پھر اگر وہ بچہ کولا لنگڑا ہو اور ساری عمر ہی کمانے کے قابل نہ ہو سکے تو کیوں نہ ساری عمر اُسے پنشن دی جائے بے شک یہ چیزیں اچھی تو ہیں مگر اس وقت اتنا ہی قدم اُٹھاؤ جتنا اُٹھا سکو۔میری طرف سے جو تجویز پیش ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جو کارکن پراویڈنٹ فنڈ لینا اپنے لئے مفید سمجھے، لے لے اور جو چاہے پنشن لے لے تا ہم پر کوئی الزام نہ آئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے ہماری براءت ہو جائے اور ہم کہہ سکیں گے اس نے اپنے لئے جو پسند کیا وہ اسے دے دیا گیا۔اس وقت ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ ہم کوئی تحسین کی صورت پیدا کر سکیں کیونکہ ہم مقروض ہیں اور اتنے مقروض ہیں کہ اگر جماعت کے بعض دوست اپنے قرضوں