خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 460

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خواہ پراویڈنٹ فنڈ کے طریق کو اپنے لئے پسند کریں اور خواہ پنشن کے طریق کو۔اور بصورت پنشن چالیس فیصدی پنشن ملے۔چند نمائندگان کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے اس تجویز کے پس منظر اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : - اس وقت تجویز یہ پیش ہے کہ آئندہ کے لئے پراویڈنٹ فنڈ کا طریق بالکل اُڑا دیا جائے۔موجودہ کارکنوں کو اختیار ہو کہ وہ چاہے پراویڈنٹ فنڈ جاری رکھیں اور چاہے پنشن لے لیں مگر آئندہ کے لئے ایک ہی طریق ہو یعنی سب کو پنشن دی جائے اور وہ چالیس فیصدی ہو۔میر محمد اسحق صاحب کی ترمیم یہ ہے کہ پنشن پچاس فیصدی ہو اور چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب کی ترمیم یہ ہے کہ کسی کارکن کی ملازمت کے آخری تین سالوں کی مستقل تنخواہ کی اوسط نکال کر اُس کا چالیس یا پچاس فیصدی پینشن دی جائے۔کارکنوں کی مشکلات مجھے اس تجویز کے پیش کرنے کی تحریک اس سبب سے ہوئی کہ گزشتہ ایام میں میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے کارکن جو علمی کاموں پر لگے ہوئے ہیں وہ بالعموم ایسے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں کہ جن میں تجارت کا رواج نہیں۔یا تو وہ زمیندار طبقہ سے ہیں اور یا ایسے ہیں جن کے باپ دادا ملازمت پیشہ تھے اس لئے تجارت سے بالکل ناواقف ہیں۔ان کو جو پراویڈنٹ فنڈ ملتا ہے وہ ان لیاقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت ہی کم ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ تمیں پینتیس سال کی ملازمت کے بعد ایک اچھی پوزیشن کے کارکن کو تین ساڑھے تین ہزار کے قریب روپیہ پراویڈنٹ فنڈ سے ملتا ہے۔اُس وقت ان کے کئی بچے ہوتے ہیں شریفانہ گزارہ کی عادت ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر ایک ایسے کارکن کو وصیت وغیرہ کا حصہ آمد وضع ہونے کے بعد بھی ستر یا نوے روپیہ کے قریب مل جاتے ہیں اسے تین ساڑھے تین ہزار کے قریب روپیہ پراویڈنٹ فنڈ سے ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ کسی جھونپڑے میں تو گزارہ کر نہیں سکتا۔اگر چھوٹا سا مکان بھی بنائے تو اس پر اڑھائی تین ہزار روپیہ لاگت آ جاتی ہے گویا اس کی گل آمد اور انجمن کا عطیہ بھی صرف مکان کے لئے بھی کافی نہیں ہوسکتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے تیسرے مہینہ ہی فاقہ کشی کی نوبت آ جاتی ہے۔