خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 451
خطابات شوری جلد دوم نیز فرمایا : - ۴۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء تجویز یہ ہے کہ ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے جو غور وفکر کے بعد کوئی تجویز پیش کرے۔جو دوست اس کے متعلق اظہارِ خیالات کرنا چاہئیں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ چنانچہ بعض ممبران نے اپنی آراء کا اظہار کیا جس کے بعد رائے شماری ہوئی۔تجویز کے حق میں ۳۹۲ آراء تھیں۔چنانچہ حضور نے کثرتِ رائے کو منظور فرمایا اور ۸ ممبران پر مشتمل ایک تعاونی کمیٹی بنائی گئی۔دینی فتوحات خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہیں ۲۲ مارچ ۱۹۴۰ء کو بعد دو پہر جب مجلس مشاورت کا دوسرا اجلاس شروع ہوا تو سب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ پیش ہونے سے قبل حضور نے دوستوں کو بعض اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- اب سب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ پیش ہوگی۔جس میں صیغہ جائیداد اور پنشن سے متعلقہ امور بھی شامل ہیں۔پہلے اس کے کہ یہ پیش ہو جیسا کہ میرا قاعدہ ہے کہ میں بعض باتیں درمیان میں بھی کہتا رہتا ہوں میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اس مجلس کی غرض اسلام کی ترقی اور بہتری کی تجاویز سوچنا ہے مگر اس کے لئے ہماری تجاویز نہایت محدود ہوتی ہیں۔اور پھر ہمارے پاس اتنا روپیہ بھی نہیں کہ اس غرض کے لئے خرچ کر سکیں۔ابھی بجٹ آپ لوگوں کے سامنے آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہی قرضے اور وہی مالی مشکلات ہیں اور انہیں دور کرنا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن جہاں تک ذاتی انقلاب پیدا کرنے کا سوال ہے وہ ہم ہر وقت کر سکتے ہیں۔اس کے لئے نہ مادی اسباب و ذرائع کا نہ ہونا ہمارے رستہ میں روک ہوسکتا ہے اور نہ حکومت کا کوئی قانون ہمارے رستہ میں روک بن سکتا یا بنتا ہے اور اصل چیز یہی ذاتی انقلاب ہے جو ہمیں کامیاب کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اگر چالیس مومن مل جائیں تو میرا کام ہوسکتا ہے اور آپ کا کام یہی تھا کہ دین کو دیگر ادیان پر غالب کرنا۔گویا آپ یہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے چالیس مومن مل جائیں تو میں اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر سکتا