خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 437

خطابات شوری جلد دوم ۴۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کا تغییر رونما ہوتا ہے۔بوعلی سینا کا ایک واقعہ بوعلی سینا ایک بہت بڑے حکیم گزرے ہیں۔طب میں ان کا نہایت اعلیٰ مقام ہے۔منطق اور فلسفہ کے بھی ماہر تھے اور دین سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔آدمی نیک اور نمازی تھے۔ایک دفعہ وہ فلسفہ کی باتیں کر رہے تھے کہ ان کا ایک شاگردان کی باتوں سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا حضرت آپ تو نبی ہیں اور آپ کی نبوت میں کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا۔انہیں اس کی یہ بات بہت بُری محسوس ہوئی اور اُنہوں نے کہا کہ تم کیسی احمقانہ باتیں کرتے ہو۔مجھے نبوت کا کوئی دعوی نہیں اور نہ مجھے نبی کہنا جائز ہے۔وہ کہنے لگا آپ خواہ دعویٰ کریں یا نہ کریں واقعہ یہی ہے کہ آپ نبی ہیں کیونکہ اس قسم کی باتیں سوائے نبی کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔خیر وہ خاموش رہے۔کچھ دنوں کے بعد سردی کا موسم شروع ہو گیا۔جس علاقہ میں وہ اُس وقت تھے وہ یوں بھی سرد تھا۔مگر جب سردی بہت زیادہ تیز ہو گئی تو حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ پانی بھی جم گیا۔ایک دن وہ ایک حوض کے کنارے بیٹھے تھے سخت سردی پڑ رہی تھی اور پانی جم کر برف بنا ہوا تھا کہ اُنہوں نے اپنے اسی شاگرد سے کہا کہ میاں کپڑے اُتارو اور اس حوض میں کود جاؤ۔پہلے تو اس نے سمجھا کہ یہ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں چنانچہ کہنے لگا اِس حوض میں اگر کوئی کو دے تو وہ یقیناً مر جائے ، آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا پھر کیا ہوا، میں جو کہتا ہوں کہ کود جاؤ۔وہ پھر کہنے لگا میں اس حوض میں کس طرح کو دسکتا ہوں ، اس میں کو دوں تو فوراً مر جاؤں۔وہ کہنے لگے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اس حوض میں گود جاؤ۔جب اس نے سمجھا کہ یہ سچ مچ مجھے گودنے کا حکم دے رہے ہیں تو وہ حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگ گیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ پاگل ہو گئے ہیں؟ بوعلی سینا کہنے لگا کہ نالائق تجھے وہ بات بُھول گئی کہ تو نے مجھے کہا تھا کہ آپ تو نبی ہیں۔ارے! تو تو اِس حوض میں گودنے کے لئے تیار نہیں حالانکہ مجھے نبی کہہ چکا ہے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی وہ تھے جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے حوض میں کود گئے اور انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ ان کا کیا انجام ہوگا۔اہل اللہ کی زبان کی تأثیر تو بوعلی سینا ممن ہے فن لیکچرار میں محمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھے ہوئے ہوں، اسی طرح موسیٰ علیہ السلام اور