خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 30
خطابات شوریٰ جلد دوم E مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء میرے سامنے یہ مشکل نہیں کہ روپیہ نہیں ہے بلکہ مجھے یہ مشکل ہے کہ روپیہ کے مقابلہ میں بار زیادہ ہے اور کمزوروں اور دین سے حقیقی تعلق نہ رکھنے والوں کی وجہ سے بار بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں۔اگر دس بھی مخلص انسان جماعت میں رہ جائیں تو بار بڑھے گا نہیں بلکہ گھٹے گا لیکن اگر لاکھوں ہوں مگر مخلص نہ ہوں تو بار بڑھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے اگر مجھے چالیس حقیقی مومن مل جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر لوں۔اگر چالیس مومنوں کے ذریعہ دنیا فتح کی جا سکتی ہے تو چالیس لاکھ مومنوں سے اور زیادہ آسانی کے ساتھ فتح ہوسکتی ہے۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ مومن بنا ئیں نہ کہ کمزوروں کو بھرتی کرتے چلے جائیں۔اگر دعوة و تبلیغ کا محکمہ تبلیغ کے ذریعہ مومن بنائے ، اگر تعلیم و تربیت کا ادارہ تربیت کے ذریعہ مومن بنائے ، اگر امور عامہ کا محکمہ باہمی معاملات کی اصلاح کے ذریعہ مومن بنائے ، اگر بیت المال کا صیغہ لوگوں سے مالی قربانی کرا کر اُنہیں مومن بنائے ، اگر وصایا کا محکمہ وصیتوں کے ذریعہ مومن بنانے کی کوشش کرے تو بڑی کثرت سے مومن بن سکتے ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ اس کے لئے کوشش نہیں کیا جاتی اور یہ محکمے اس طرح کام نہیں دے رہے۔اگر لوگوں کی وصیتیں اس لئے منسوخ کر دی جائیں کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم مصیبت کے وقت سچ بولنے سے کتراتے ہو، تم نے فلاں پر ظلم کرنے سے دریغ نہیں کیا، تم نے اپنی بیوی سے انصاف اور عدل کا سلوک نہیں کیا تم نے اپنی دو بیویوں میں سے ایک پر ظلم کر رکھا ہے تو پھر دیکھو ایسے لوگوں میں اخلاص پیدا ہوتا ہے یا نہیں اور وہ اپنی اصلاح کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ اصلاح نہ کریں تو ان کے روپیہ سے کیا برکت حاصل ہوسکتی ہے اور وہ ہمیں کیا نفع دے سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تجسس کرتے پھر و، یہ خودلعنت ہے اور جو تجسس کر کے دوسروں کی کمزوریاں معلوم کرنا چاہتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا غضب اپنے خلاف بھڑکا تا ہے مگر جو آنکھوں دیکھی لکھی کھاتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا تا ہے۔قابل اصلاح افراد ایسی طرح افراد کا حال ہے۔آپ لوگوں میں سے بھی ایسے ہیں جو صحیح طور پر تعاون نہیں کرتے۔جو وعدہ کرتے ہیں إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ مخلصین کو چھوڑ کر باقی پورا نہیں کرتے۔حالانکہ اس وقت تک وہ ایک بھی وعدہ ایسا نہیں کر