خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 433

خطابات شوری جلد دوم ۴۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اور وہ یہ کہ اس مجلس کے سپر د ایک کام یہ بھی ہے کہ اگر کسی خلیفہ کی ناگہانی موت ہو جائے تو یہ مجلس اُس کی وفات پر جمع ہو اور نئے خلیفے کا انتخاب کرے۔اگر اس جماعت کے اندر بھی منافقین شامل ہوں، اگر اس جماعت کے اندر بھی کمزور ایمان والے لوگ شامل ہوں، اگر اس جماعت کے اندر بھی بے نمازی شامل ہوں، اگر اس جماعت کے اندر بھی وہ بڑبولے اور معترض شامل ہوں جن کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے بالکل خالی ہوں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اس مجلس میں بھی پارٹی بازی شروع ہو جائے گی اور کوئی کسی کی طرف مُجھک جائے گا اور کوئی کس کی طرف اور لڑائی جھگڑا اور فساد شروع ہو جائے گا۔جیسے بعض ناقص العقل اور کمزور جماعتوں میں پریذیڈنٹ وغیرہ کے انتخاب کے موقع پر اس قسم کے جھگڑے ہو جایا کرتے ہیں اور جماعت کا ایک حصہ کسی کے متعلق پرا پیگینڈہ کرتا رہتا ہے اور دوسرا حصہ کسی کے متعلق۔اور انتخاب کے موقع پر بجائے سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کرنے کے ہر پارٹی یہ چاہتی ہے کہ جس کا اس نے انتخاب کیا ہے وہی پریذیڈنٹ ہو۔اگر اس قسم کے جھگڑے اور اس قسم کی پارٹی بازی مجلس شوریٰ میں بھی شروع ہو گئی تو اُس وقت خلافت خلافت نہیں رہے گی بلکہ ایک ادنی دنیوی انتظام ہو گا جو نہ دین کے لئے مفید ہوگا اور نہ دُنیا کے لئے۔اس مجلس میں تو ان لوگوں کو شامل ہونے کے لئے بھیجنا چاہئے جن کا ایمان اتنا مضبوط ہو کہ وہ سلسلہ کے فائدہ کے لئے اپنے باپ اور اپنی ماں کی بات سننے کے لئے بھی تیار نہ ہوں کجا یہ کہ وہ ادھر اُدھر کی باتیں سنیں اور سلسلہ کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے لگ جائیں۔اس قسم کے آدمی تو مجلس شوری سے ہزاروں میل کے فاصلہ پر رہنے چاہیں کجا یہ کہ ان کو نمائندہ بنا کر اس مجلس میں شامل کر لیا جائے۔پس یہ ایک خطرناک غفلت ہے جو اس دفعہ جماعت نے کی اور میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ جماعتیں میری اس ہدایت کو یاد رکھیں گی۔بلکہ میں جماعت کے کارکنوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ میرے اتنے حصہ تقریر کو الگ شائع کر دیں اور آئندہ مجلس شوری کے موقعوں پر ہمیشہ اسے شائع کرتے رہیں تاکہ جماعتیں اُن لوگوں کا انتخاب کر کے بھیجا کریں جو تقویٰ اور دیانت اور عبادت کے لحاظ سے بڑے ہوں۔یہ نادانی کا خیال ہے جو بعض جماعتوں میں پایا جاتا ہے کہ فلاں چونکہ مالی واقفیت