خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 426
خطابات شوری جلد دوم ۴۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء میں کئے چلے جاتے ہیں۔یہ خبریں ہمارے سامنے ہیں۔مگر ہماری جماعت کو ان کا کوئی فکر نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے وہ لوگ دشمن ہیں جو لاہور ، فیرز پور یا سیالکوٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔حالانکہ ان کا وہ دشمن نہیں جو قصور میں بیٹھا ہوا ہے۔وہ دشمن نہیں جو فیروز پور میں بیٹھا ہوا ہے، وہ دشمن نہیں جو لاہور میں بیٹھا ہوا ہے، بلکہ احمدیت اور اسلام کا وہ دشمن ہے جو ہزاروں میل دور بیٹھا ہے اور موت کی طرح ہر آن ہماری طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے اور موت کو روکنے والا سوائے خدا کے اور کوئی نہیں۔پس جب تک خدائی ہاتھ ان دشمنوں کو ہماری طرف بڑھنے سے روک نہ دے اُس وقت تک ہمارا چین سے بیٹھے رہنا ایک احمقانہ اور مجنونانہ حرکت ہے۔پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، دعاؤں سے کام لیں اور جو وعدے اُنہوں نے کئے ہوئے ہیں انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔وہ وعدے بھی جو تحریک جدید کے سلسلہ میں اُنہوں نے کئے اور وہ وعدے بھی جو جو بلی فنڈ کے لئے اُنہوں نے کئے گو جو بلی فنڈ کی تحریک میری طرف سے نہیں مگر بہر حال دوستوں نے جو وعدے کئے ہیں اُن کا فرض ہے کہ وہ اُنہیں پورا کریں۔پھر اس وقت جو بجٹ طے ہوا ہے اس کو پورا کرنا بھی ہماری جماعت کے تمام دوستوں کا فرض ہے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ جب تک ہماری جماعت کے دوست صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے اور عورتوں اور بچوں میں بھی قربانی کی روح پیدا نہیں کریں گے، اُس وقت تک ان کی راہ میں بہت سی مشکلات حائل رہیں گی اور وہ کبھی بھی صحیح رنگ میں قربانی نہیں کر سکیں گے۔مگر جس دن اُنہوں نے عورتوں اور بچوں میں بھی یہ روح پیدا کر دی، اُس دن اگر موجودہ بجٹ سے دو گنا بجٹ بھی منظور ہو گا تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ آسانی سے پورا ہو جائے گا۔اسی طرح تبلیغ پر زور دیں اور لوگوں کو سلسلہ میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔میں نے انہی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک جدید کو صدر انجمن کے باقی صیغہ جات سے الگ رکھا ہوا ہے اور میرا منشاء ہے کہ اس روپیہ سے ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کیا جائے جس