خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 29
خطابات شوری جلد دوم ۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء امداد دے دیئے جائیں حالانکہ یہ کام تو میں خود بھی کر سکتا تھا۔مگر یہ دینے کا سوال نہ تھا بلکہ یہ بات مد نظر تھی کہ بریکاروں کی اس طرح امداد کرنے کا اخلاقی طور پر بہت بُرا اثر پڑ رہا تھا۔وہ لوگ جو بغیر کوئی کام کئے بیٹھے بٹھائے کھاتے وہ بے دینی اور منافقت پھیلاتے اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ان کے متعلق کمیٹی بنانے کی غرض یہ تھی کہ وہ ان میں یہ احساس پیدا کرے کہ اپنی روزی آپ کمائیں گے مگر اس کے لئے کوئی کوشش نہ کی گئی اور لطیفہ یہ ہے کہ جس ناظر نے اس سکیم کے متعلق مجھے لکھا تھا اُس نے دوسروں سے بھی کم کام کیا۔اسی طرح متواتر کئی سال سے میں توجہ دلاتا چلا آ رہا ہوں کہ بہشتی مقبرہ ہمارے لئے روپیہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاق کے پر کھنے کا ذریعہ ہے۔مگر مقبرہ بہشتی کی کمیٹی کا یہ طریق ہے کہ جس کے پاس جائداد ہو اس کی نسبت اِدھر اُدھر سے پوچھ کر لکھ دیتی ہے کہ اس کی وصیت منظور کی جائے اور اسے مقبرہ بہشتی میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔ایک بار ایک ناظر اس قسم کی وصیت لایا تو میں نے اُس سے پوچھا ایمانداری سے کہو فلاں آدمی متقی ہے؟ اگر اسے مقبرہ بہشتی میں دفن کر دیا گیا تو خدا تعالیٰ تو بیشک اپنے وعدہ کے مطابق اسے بہشت میں داخل کر دے گا مگر ہم دوزخ کے قریب ہو جائیں گے۔جو جماعت اپنے نازک وقت میں اور اس ایسے نازک معاملہ میں احتیاط نہیں کرتی ، اُس کی کامیابی کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقبرہ بہشتی کے متعلق لکھا ہے:۔” خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں تا آئندہ کی نسلیں ایک ہی جگہ ان کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں۔اور تا ان کے کارنامے یعنی جو خدا کے لئے اُنہوں نے دینی کام کئے ہمیشہ کے لئے قوم پر ظاہر ہوں۔کے پس ہمیں کسی کی وصیت اس لئے قبول نہ کرنی چاہئے کہ وہ جائداد رکھتا ہے یا اُس کی کافی آمدنی ہے جس کا حصہ مل جائے گا اور نہ کسی کے تقویٰ اور دینداری کے متعلق زید اور بکر کی گواہی مان لینی چاہئے بلکہ پوری تحقیقات کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جب کسی کے سامنے اس کے متعلق انہیں بات کرنی پڑے تو ان کی آنکھ نیچی ہو جاتی ہے اور وہ سچی گواہی نہیں دے سکتے۔انہی حالات کی وجہ سے