خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 422

خطابات شوری جلد دوم پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔۴۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء پھر میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ یہ حالات معمولی نہیں ہیں اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری جماعت کی ہے اور اگر بدنامی ہو گی تو جماعت کی ہوگی تو یہ کوئی ایمان کی علامت نہیں۔جب تک کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ جماعت کی بدنامی سے بہتر ہے کہ اس کو موت آ جائے اُس وقت تک اس میں ذرہ بھر ایمان نہیں کہا جا سکتا۔قرضوں کا بار جماعت کی بدنامی کا موجب ہے اور اس کا اُتارنا ضروری ہے۔ایک دو سال میں نہیں اُتر سکتا تو نہ سہی، دس بیس سال جتنے عرصہ میں بھی ممکن ہو تھوڑا تھوڑا کر کے اُتارنے کی کوشش کریں لیکن اگر دس سال میں بھی کچھ نہ اُتار سکیں تو پھر کیا صورت ہو سکتی ہے۔سوائے اس کے کہ بازار کے آوارہ گردوں کی طرح جو قرض لے کر بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ جاؤ ہم نہیں دیتے جو کرنا ہے کر لو انجمن بھی اپنے قرضہ خواہوں کو یہ جواب دیدے۔پہلے جو غلطی ہو چکی ہے اُس کے ازالہ کی اب بھی کوئی کوشش انجمن کی طرف سے نہیں ہو رہی۔اس کے ساتھ ہی میں جماعت سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ غیر معمولی باروں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بھی خاص کوشش سے کام کرنا چاہئے اور پوری توجہ سے بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔“ اختتامی تقریر مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے اپنے اختتامی خطاب میں احباب جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ دُنیا کے حالات میں بڑی تبدیلی آرہی ہے اور یورپین تو میں اسلام اور مسلمانوں کو کچلنے کی تیاری کر رہی ہیں ان حالات کا ادراک کرتے ہوئے جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور انہیں پوری طرح ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔حضور نے اپنا بصیرت افروز خطاب شروع کرتے ہوئے فرمایا : - آج حالات دُنیا میں اس قدر یور چین طاقتیں مسلمانوں کو کچل دینا چاہتی ہیں۔سرعت سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ ہمارا آنکھیں بند کر کے بیٹھ جانا بے وقوفی ہے۔ہر طرف سے مسلمانوں کو پیسا جا رہا