خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 415
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ہم جائیدادوں کی کوئی حد بندی کریں؟ اس موقع پر میرے بعض حوالے پیش کئے گئے ہیں اور میں نے ان کے متعلق اپنی رائے بدلی نہیں۔میں نے جب یہ کہا تھا تو اُس وقت آمد کا سوال تھا نہ کہ جائیداد کا۔میں نے اُس وقت کہا تھا کہ وصیت کرنے والے کے اخلاق اور اعمال کا ثبوت صرف جائیداد سے نہیں لگانا چاہئے اس سے اس کی قربانی کا ثبوت نہیں ملتا اور میں نے ثبوت کے طور پر یہ بات پیش کی تھی جس کو میں دُہرا دیتا ہوں کہ جائیداد کا لفظ یا معین ہے یا غیر معتین۔اگر غیر معین ہے تو ایک گلاس بھی جائیداد ہے۔حالانکہ ممکن ہے کہ وصیت کرنے والے کی آمدنی دس ہزار ہو اور اسی اسٹیج پر اُس وقت مصری صاحب نے کہا تھا کہ ہاں میرے نزدیک گلاس جائیداد ہے اور اس کا ۱٫۱۰ حصہ موصی بنا دے گا۔یہ اس شخص کی دلیری تھی اور اس سے ثابت ہو گیا تھا کہ صاحب خشیت اللہ کے اعلیٰ معیار پر نہیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جائیداد یا معین ہوگی یا غیر معتین۔اگر غیر معین ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ چاہے گلاس ہو یا ایک کپڑا ہو اور آخری جائیداد ایک بوسیدہ تہہ بند ہوسکتی ہے۔اور اگر ہم جائیداد کو معین کریں تو اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ معین کس بنیاد پر کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جس کے پاس کوئی جائیداد نہیں وہ کیا کرے؟ اور میں نے اس کے معنی یہ کئے تھے کہ اس سے معلوم ہوا کہ معین جائیداد ہونی چاہئے۔کیونکہ اگر وہ بالکل نگا نہیں تو تہہ بند بھی تو جائیداد ہے اور اس کا وہ ترکہ ہو گا جس کو وہ پیش کر سکتا ہے۔تو ایسی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ جس کی کوئی جائیداد نہیں اُس کی یہ شرط ہے۔تو کیا اس سے یہ مراد ہو گی کہ جو شخص بالکل ننگا ہوتا ہے اُس کی یہ شرط ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔ایک شخص بالکل نگا ہو اور وہ وصیت کرنے کے لئے دفتر میں آ رہا ہے۔کم سے کم ہم اتنا تو قیاس کریں گے کہ وہ ایک لنگوٹی باندھ کر آیا ہے اور لنگوٹی بھی ترکہ ہے تو اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف ترکہ کو جائیداد کا نام نہیں دیا۔چاہے وہ ایک لنگوٹی ہو یا بھوج پتر۔تو میں نے کہا تھا کہ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جائیداد کی ہم تعیین کر سکتے ہیں کیونکہ بعض اشیاء کو آپ نے غیر جائیداد قرار دیا ہے۔