خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 28
خطابات شوری جلد دوم ۲۸ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء چاہئے اور اس کے مطابق کام کرنا چاہئے۔مگر گزشتہ دو سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ نہ مبلغوں نے خود میری سکیموں پر غور کیا اور نہ انہوں نے جماعت کو توجہ دلائی اور نہ نظارت نے مبلغوں کو توجہ دلائی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر مبلغ اپنے آپ کو خلیفہ سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ اُس کا حق ہے کہ جو اُس کے جی میں آئے سُنائے اور جو نہ چاہے نہ سنائے۔حالانکہ وہ بانسری ہے جس کا کام یہ ہے کہ جو آواز اُس میں ڈالی جائے اُسے باہر پہنچائے۔اگر مبلغ یہ سمجھتے کہ وہ ہتھیار ہیں میرا نہ کہ دماغ ہیں جماعت کا ، تو وہ میرے خطبات لیتے اور جماعت میں ان کے مطابق تبلیغ کرتے اور اس طرح اس وقت تک عظیم الشان تغیر پیدا ہو چکا ہوتا۔مگر ادھر ابھی تک اُن کا خیال ہی نہیں گیا کہ انہیں کس کام کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اُن کا کیا کام ہے اور نہ ناظر کو خیال آیا کہ مبلغ کس طرف جا رہے ہیں۔اُس نے مبلغین کا کام صرف یہ سمجھا کہ دورہ کا ایک پروگرام تجویز کیا اور اُسے پورا کرنے کے لئے مبلغوں کو یہاں سے بھیج دیا۔یہ کبھی سوچا ہی نہیں کہ مبلغین کا کام یہ ہے کہ خلافت کی ہر آواز کو خود سنیں اور سمجھیں پھر ہر جگہ اسے پہنچائیں۔مگر نہ مجھے یہ نظر آتا ہے کہ مبلغ دینی رغبت کے نتیجہ میں مقرر کئے جاتے ہیں نہ مجھے یہ دکھائی دیتا ہے کہ دعائیں کرنا ، نمازوں میں خشوع و خضوع سے کام لینا اور عجز وانکسار کا اظہار کرنا ان کا معمول ہے، نہ وہ تقویٰ کا کوئی ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ لوگ ان کی شکل دیکھ کر ہی ان کا اثر قبول کر لیں۔لیکن اگر یہی حالت رہے تو میں ساری دنیا میں اپنی جماعت کے پھیل جانے اور اس کی حکومت قائم ہو جانے کو خدا تعالیٰ کی رحمت نہیں سمجھ سکتا۔جب تک جماعت احمدیہ کے ذریعہ دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو قائم نہ کرلوں میں یہی سمجھوں گا کہ ایک لعنت مٹی اور دوسری اس کی جگہ قائم ہوگئی۔دوسرے محکموں کا ذکر یہی حال دوسرے محکموں کی کمزوریوں کا ہے۔تین چار سال ہوئے اسی جگہ ایک سکیم پیش کی گئی تھی جس کی بنیاد پر یہ قرار دیا گیا تھا کہ تین محکمے مل کر کوشش کریں کہ بجائے اس کے کہ غرباء کو یونہی امداد دی جائے ان کے لئے کام نکالے جائیں مگر حرام ہے کہ تنکے کے برابر بھی کام کیا گیا۔انہوں نے ایک کمیٹی بنا کر مجھے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ فلاں کو دس روپے اور فلاں کو پندرہ روپے بطور