خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 414
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اب سوال یہ ہے کہ کیا ہر احمدی اس قبرستان میں داخل ہو سکے گا اور وہ رؤیا اس طور پر پوری ہو جائے گا؟ تب وحی خفی نازل ہوئی اور بتایا کہ یہ رویا اس طرح پوری کرو کہ ایسے قبرستان کے لئے کچھ شرائط لگا دیئے جائیں کہ اس معیار کے مطابق لوگ اس میں داخل ہوں۔اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے در حقیقت دین کو دُنیا پر مقدم کر لیا اور دُنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔امِيْنَ يَا رَبَّ الْعَلَمِيْنَ ١٢٠٠ یہ شرائط حضور نے اپنی سمجھ کے مطابق لگائے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ شرطیں اپنی نہ ہوں تو پھر یہ کہنا جائز ہوگا کہ ہر شخص جو ان شرطوں کے ماتحت وصیت کرے وہ جنتی ہے، حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ اس صورت میں لازم آئے گا کہ ہر وصیت کرنے والا لازماً جنتی ہے حالانکہ بعض وصیتیں منسوخ بھی ہو سکتی ہیں۔گو میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ ہماری نظروں میں کمزور ہوں لیکن وہ مقبرہ میں داخل ہو جائیں تو یہ ہماری نظروں کی غلطی ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی درست ہو گا اور اگر ہم نے اپنے صحیح علم کے مطابق فیصلہ نہیں کیا تو گو اس میں داخل ہونے والا تو جنتی ہو جائے گا لیکن ہم نے اپنے لئے دوزخ خرید لیا۔پس مقبرہ بہشتی کی اصل غرض روپیہ نہیں بلکہ اچھے اعمال اور تقویٰ اور قربانی ہے۔چونکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ایک شخص ہمارے علم میں متقی ہے، تو ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کسی زمانہ میں وہ متقی نہ رہے۔پس ہم اس کے متعلق ایسی شرائط لگا دیتے ہیں کہ جن سے آئندہ بھی ہمیں اس کے ایمان کا پتہ لگتا ر ہے اور اس کے ایمان کے بارہ میں اس کے حال سے ہم گواہی لیتے رہتے ہیں۔چنانچہ جب اس کی مالی قربانی ایک طرف اور ظاہری حالات دوسری طرف اس کی نیکی پر گواہی دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جس طرح اس کی ابتداء اچھی تھی انتہاء بھی اچھی ہے اس احتیاط کے بعد بھی اگر ہم غلطی کریں تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہوتی۔